اصول حدیثعلوم حدیث

روایت حدیث میں احتیاط​

روایت حدیث میں احتیاط​

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جھوٹ کے قریب جانا تو ابعد الابعاد تھا وہ تو اس حدیث کی روایت میں بھی بڑی احتیاط کرتے تھے جو انہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان :

[ar]”من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار”[/ar]

(جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے)

ان کی آنکھوں کے سامنے تھا جس کا خوف انہیں بسا اوقات اصل حدیث کی روایت میں بھی محتاط کردیتا تھا ۔

انس رضی اللہ عنہ جو اصحاب مکثرین میں سے ہیں روایت حدیث میں اپنی احتیاط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

[ar]”انہ لیمنعنی ان احدثکم حدیثا کثیرا ان محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من تعمد علی کذبا فلیتبوأ مقعدہ من النار”[/ar]

(مجھے تم سے بکثرت حدیثیں بیان کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روکتا ہے کہ جس نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے)

صحیح بخاری، ج 1، ص:21، صحیح مسلم، ج 1، ص:7

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم جناب زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کرتے ہیں کہ:

[ar]” انی لا اسمعک تحدث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کما یحدث فلاں و فلاں قال اما انی لم افارقہ ولکن سمعتہ یقول: من کذب علی فلیتبوأ مقعدہ من النار”[/ar]

(میں نہیں سنتا کہ آپ بھی "اتنی کثرت سے” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتے ہوں جیسا کہ فلان اور فلاں بیان کرتا ہے ، وہ فرمانے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا تو نہیں ہوا لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: "جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ آگ ہے”

صحیح بخاری، ج 1، ص:12

معروف تابعی عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنا مشاہدہ بیان فرماتے ہیں کہ:

[ar]” ادرکت فی ھذا المسجد عشرین ومائۃ من الانصار وما منھم من یحدث بحدیث الا ود ان اخاہ کفاہ”[/ar]

( میں نے اس مسجد میں ایک سو بیس (120) صحابہ کو پایا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث بیان کرنے کو تیار نہ ہوتا بلکہ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ کوئی دوسرا بھائی بیان کرے-"

دارمی

صحابہ کرام حیسا کہ خود حدیث روایت کرنے میں احتیاط سے کام لیتے اسی طرح کسی دوسرے سے یعنی روایت لینے میں پوری احتیاط کرتے تھے جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

[ar]”کنت اذا سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیثا نفعنی اللہ بما شاء ان ینفعنی بہ وکان اذا حدثنی غیرہ استحلفتہ فاذا حلف صدقتہ”[/ar]

(میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست کوئی حدیث سنتا تو اللہ مجھے ا س حدیث سے جو نفع پہنچانا چاہتا پہنچا دیتا اور جب کوئی غیر مجھ سے حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم اٹھواتا اگر وہ قسم اٹھالیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا)مسند احمد، ج 1، ص:2

اقتباس: ضعیف اور موضوع روایات

تالیف: محمد یحی گوندلوی

صفحہ: 32​

شیر سلفی

شیر سلفی ایک بلاگر اور ویب ڈیزائنر ہیں۔ احیاء السنۃ ویب سائٹس کے تکنیکی معاون ہیں۔ جو کہ اردو ، پشتو، انگریزی میں قرآن و سنت کی دعوت پر مبنی ہیں۔ اس ویب سائٹ (دفاع حدیث) کے منتظم ہیں۔ جو کہ احیاء السنۃ کا ہی ایک پروجیکٹ ہے۔ اپنی ایک کمپیوٹر تعلیمی ویب سائٹ بھی www.sahlatech.com کے نام سے چلا رہے ہیں۔ آپ ان سے sher.salafe@gmail.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
Back to top button
Close