صحیح بخاریکتاب العمل فی الصلاۃ

صحیح بخاری جلد دؤم : كتاب العمل في الصلاة ( نماز کے کام کے بارے میں) : حدیث:-1215

كتاب العمل في الصلاة
کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

Chapter No: 13

باب مَنْ صَفَّقَ جَاهِلاً مِنَ الرِّجَالِ فِي صَلاَتِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلاَتُهُ

If a man claps during the Salat because of ignorance, then his Salat will not be invalid

باب : اگر کوئی مرد مسئلہ نہ جان کر نماز میں دستک دے تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی.

فِيهِ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

This has been narrated by Sahl bin Sa’d on the authority of the Prophet (s.a.w)

اس باب میں سہل بن سعد نے نبیﷺ سے روایت کیا

Chapter No: 14

باب إِذَا قِيلَ لِلْمُصَلِّي تَقَدَّمْ أَوِ انْتَظِرْ فَانْتَظَرَ فَلاَ بَأْسَ

If a person in Salat is asked to step forward, or is requested to wait and he waits, there will be no harm therein

باب : اگر نمازی سے کوئی کہے آگے بڑھ جا یا ٹھہر جا اور وہ (آگے بڑھ جائے) یا ٹھہر جائے تو کوئی قباحت نہیں

 


[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1215         

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ عَاقِدُو أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ ‏”‏ لاَ تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا ‏”‏‏‏‏‏‏.

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1215 ـ حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد ـ رضى الله عنه ـ قال كان الناس يصلون مع النبي صلى الله عليه وسلم وهم عاقدو أزرهم من الصغر على رقابهم، فقيل للنساء ‏”‏ لا ترفعن رءوسكن حتى يستوي الرجال جلوسا ‏”‏‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1215 ـ حدثنا محمد بن کثیر، اخبرنا سفیان، عن ابی حازم، عن سہل بن سعد ـ رضى اللہ عنہ ـ قال کان الناس یصلون مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم وہم عاقدو ازرہم من الصغر على رقابہم، فقیل للنساء ‏”‏ لا ترفعن رءوسکن حتى یستوی الرجال جلوسا ‏”‏‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبیﷺ کے ساتھ لوگ اپنے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی گردنوں سے باندھے رکھتے ۔ اور عورتوں کو کہہ دیا جاتا تھا کہ جب تک مرد پوری طرح سمٹ کر نہ بیٹھ جائیں تم اپنے سر (سجدے سے) نہ اٹھانا۔۔


حدیث کی اردو تشریح:   

 تشریح : امام نماز میں بھول جائے یا کسی دیگرضروری امر پر اما م کو آگاہ کرنا ہوتو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورت تالیاں بجائیں اگر کسی مرد نے نادانی کی وجہ سے تالیاں بجائیں تو اس کی نماز نہیں ٹوٹے گی۔ چنانچہ سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو دو بابوں کے بعد آرہی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے نادانی کی وجہ سے ایسا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں فرمایا۔ حدیث اور باب میں یوں مطابقت ہوئی کہ یہ بات عورتوں کو حالت نماز میں کہی گئی یا نماز سے پہلے۔ شق اول میں معلوم ہو اکہ نمازی کو مخاطب کرنا اور نمازی کے لیے کسی کا انتظار کرنا جائز ہے اور شق ثانی میں معلوم ہوا کہ نماز میں انتظار کرنا جائز ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ کسی کا انتظار اگر شرعی ہے تو جائزہے ورنہ نہیں ( فتح الباری

English Translation: 

Narrated By Sahl bin Sad : The people used to offer the prayer with the Prophet with their waist-sheets tied round their necks because of the shortness of the sheets and the women were ordered not to lift their heads till the men had sat straight.

Related Articles

Back to top button
Close