صحیح بخاریکتاب العمل فی الصلاۃ

صحیح بخاری جلد دؤم : كتاب العمل في الصلاة ( نماز کے کام کے بارے میں) : حدیث:-1221

كتاب العمل في الصلاة
کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

Chapter No: 18

باب تَفَكُّرِ الرَّجُلِ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ

Thinking of something during As-Salat

باب : نماز میں آدمی کسی بات کی فکر کرے تو یہ کیسا ہے

وَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه إِنِّي لأُجَهِّزُ جَيْشِي وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ‏

Umar said, "I think of organizing my troops while I am in Salat”

اور حضرت عمرؓ نے کہا میں نماز میں جہاد کیلئے اپنی فوج کا سامان تیار کیاکرتا ہوں


[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1221         

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ـ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ـ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا دَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ فَقَالَ ‏”‏ ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ تِبْرًا عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ ‏”.

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1221 ـ حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا روح، حدثنا عمر ـ هو ابن سعيد ـ قال أخبرني ابن أبي مليكة، عن عقبة بن الحارث ـ رضى الله عنه ـ قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم العصر، فلما سلم قام سريعا دخل على بعض نسائه، ثم خرج ورأى ما في وجوه القوم من تعجبهم لسرعته فقال ‏”‏ ذكرت وأنا في الصلاة تبرا عندنا، فكرهت أن يمسي أو يبيت عندنا فأمرت بقسمته ‏”‏‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1221 ـ حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا روح، حدثنا عمر ـ ہو ابن سعید ـ قال اخبرنی ابن ابی ملیکۃ، عن عقبۃ بن الحارث ـ رضى اللہ عنہ ـ قال صلیت مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم العصر، فلما سلم قام سریعا دخل على بعض نسائہ، ثم خرج وراى ما فی وجوہ القوم من تعجبہم لسرعتہ فقال ‏”‏ ذکرت وانا فی الصلاۃ تبرا عندنا، فکرہت ان یمسی او یبیت عندنا فامرت بقسمتہ ‏”‏‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ، انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی ایک زوجہ کے پاس گئے۔ پھر باہر نکلے اور لوگوں کے چہروں پر جو آپ ﷺکے اٹھ جانے سے تعجب تھا اس کو ملاحظہ کیا پھر فرمایا: مجھے نماز میں سونے کی ایک ڈالی کا خیال آیا۔ مجھے برا معلوم ہوا کہ رات تک یا شام تک وہ ہمارے پاس رہے۔ میں نے اس کے بانٹنے کاحکم دے دیا۔


حدیث کی اردو تشریح:   

نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سونے کا وہ بقایا ڈلا تقسیم کے لیے یاد آگیا یہیں سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔

English Translation: 

Narrated By ‘Uqba bin Al-Harith : I offered the ‘Asr prayer with the Prophet and after finishing the prayer with Taslim he got up quickly and went to some of his wives and then came out. He noticed the signs of astonishment on the faces of the people caused by his speed. He then said, "I remembered while I was in my prayer that a piece of gold was Lying in my house and I disliked that it should remain with us throughout the night, and so I have ordered it to be distributed.”

Related Articles

Back to top button
Close