صحیح بخاریکتاب العمل فی الصلاۃ

صحیح بخاری جلد دؤم : كتاب العمل في الصلاة ( نماز کے کام کے بارے میں) : حدیث:-1222

كتاب العمل في الصلاة
کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

Chapter No: 18

باب تَفَكُّرِ الرَّجُلِ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ

Thinking of something during As-Salat

باب : نماز میں آدمی کسی بات کی فکر کرے تو یہ کیسا ہے


[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1222         

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إِذَا أُذِّنَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ، فَلاَ يَزَالُ بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ‏”‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ‏.‏ وَسَمِعَهُ أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه‏.

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1222 ـ حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر، عن الأعرج، قال قال أبو هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إذا أذن بالصلاة أدبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التأذين، فإذا سكت المؤذن أقبل، فإذا ثوب أدبر فإذا سكت أقبل، فلا يزال بالمرء يقول له اذكر ما لم يكن يذكر حتى لا يدري كم صلى ‏”‏‏.‏ قال أبو سلمة بن عبد الرحمن إذا فعل أحدكم ذلك فليسجد سجدتين وهو قاعد‏.‏ وسمعه أبو سلمة من أبي هريرة ـ رضى الله عنه‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1222 ـ حدثنا یحیى بن بکیر، حدثنا اللیث، عن جعفر، عن الاعرج، قال قال ابو ہریرۃ ـ رضى اللہ عنہ ـ قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ‏”‏ اذا اذن بالصلاۃ ادبر الشیطان لہ ضراط حتى لا یسمع التاذین، فاذا سکت الموذن اقبل، فاذا ثوب ادبر فاذا سکت اقبل، فلا یزال بالمرء یقول لہ اذکر ما لم یکن یذکر حتى لا یدری کم صلى ‏”‏‏.‏ قال ابو سلمۃ بن عبد الرحمن اذا فعل احدکم ذلک فلیسجد سجدتین وہو قاعد‏.‏ وسمعہ ابو سلمۃ من ابی ہریرۃ ـ رضى اللہ عنہ‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :جب نماز کی اذان ہوتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر گوز لگاتا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے۔ جب مؤذن خاموش ہوتا ہے تو مردود پھر آ جاتا ہے۔ جب تکبیر ہوتی ہے پھر پیٹھ موڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ جب تکبیر ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے اور آدمی سے کہتا ہے ، وہ یاد کر، یہ یاد کر، وہ وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو کبھی یاد نہ آئیں یہاں تک کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ ابو سلمہ نے کہا :جب کسی کو ایسا ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے سہو کر لے۔


حدیث کی اردو تشریح:   

معلوم ہوا کہ نماز میں شیطان وساوس کے لیے پوری کوشش کرتا ہے۔ اس لیے اس بارے میں انسان مجبور ہے۔ پس جب نماز کے اندر شیطانی وساوس کی وجہ سے یہ نہ معلوم رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہوں تو یقین پر بنا رکھے، اگر اس کے فہم میں نماز پوری نہ ہو تو پوری کر کے سہو کے دو سجدے کر لے۔ ( قسطلانی ) ۔

English Translation: 

Narrated By Abu Huraira : Allah’s Apostle said, "When the Adhan for the prayer is pronounced, then Satan takes to his heels passing wind so that he may not hear the Adhan and when the Muadh-dhin finishes, he comes back; and when the Iqama is pronounced he again takes to his heels and when it is finished, he again comes back and continues reminding the praying person of things that he used not to remember when not in prayer till he forgets how much he has prayed.” Abu Salama bin ‘Abdur-Rahman said, "If anyone of you has such a thing (forgetting the number of Rakat he has prayed) he should perform two prostrations of Sahu (i.e. forgetfulness) while sitting.” Abu Salama narrates this from Abu Huraira.

Related Articles

Back to top button
Close