صحیح بخاریکتاب العمل فی الصلاۃ

صحیح بخاری جلد دؤم : كتاب العمل في الصلاة ( نماز کے کام کے بارے میں) : حدیث:-1223

كتاب العمل في الصلاة
کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

Chapter No: 18

باب تَفَكُّرِ الرَّجُلِ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ

Thinking of something during As-Salat

باب : نماز میں آدمی کسی بات کی فکر کرے تو یہ کیسا ہے


[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1223         

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ النَّاسُ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَلَقِيتُ رَجُلاً فَقُلْتُ بِمَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ فَقَالَ لاَ أَدْرِي‏.‏ فَقُلْتُ لَمْ تَشْهَدْهَا قَالَ بَلَى‏.‏ قُلْتُ لَكِنْ أَنَا أَدْرِي، قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا‏‏.

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1223 ـ حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، قال أخبرني ابن أبي ذئب، عن سعيد المقبري، قال قال أبو هريرة ـ رضى الله عنه ـ يقول الناس أكثر أبو هريرة، فلقيت رجلا فقلت بم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم البارحة في العتمة فقال لا أدري‏.‏ فقلت لم تشهدها قال بلى‏.‏ قلت لكن أنا أدري، قرأ سورة كذا وكذا‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1223 ـ حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، قال اخبرنی ابن ابی ذئب، عن سعید المقبری، قال قال ابو ہریرۃ ـ رضى اللہ عنہ ـ یقول الناس اکثر ابو ہریرۃ، فلقیت رجلا فقلت بم قرا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم البارحۃ فی العتمۃ فقال لا ادری‏.‏ فقلت لم تشہدہا قال بلى‏.‏ قلت لکن انا ادری، قرا سورۃ کذا وکذا‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نے بہت حدیثیں بیان کیں اور حال یہ تھا کہ (آپﷺ کے زمانے میں) میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ گذشتہ رات کی عشاء کی نماز میں رسول اللہﷺ نے کونسی سورت پڑھی تھی۔ وہ کہنے لگا :میں نہیں جانتا ۔ میں نے کہا :کیا تم نماز میں شریک نہیں تھے۔ وہ کہنے لگا: کیوں نہیں ،میں تو تھا لیکن مجھے یاد نہیں ، میں نے کہا:مجھے تو خوب یاد ہے فلانی فلانی سورتیں آپﷺ نے پڑھی تھیں۔


حدیث کی اردو تشریح:   

تشریح : اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ بتائی ہے کہ میں احادیث دوسرے بہت سے صحابہ کے مقابلے میں زیادہ کیوں بیان کرتا ہوں۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو اور دوسرے اعمال کو یاد رکھنے کی کوشش دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کرتا تھا۔ ایک روایت میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں ہر وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ رہتا تھا، میرے اہل وعیال نہیں تھے،کھانے کمانے کی فکر نہیں تھی، “صفہ” میں رہنے والے غریب صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں دن گزرتا تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑتا تھا۔اس لیے میں نے احادیث آپ سے زیادہ سنیں اور چونکہ محفوظ بھی رکھیں اس لیے انہیں بیان کرتا ہوں۔ یہ حدیث کتاب العلم میں پہلے بھی آچکی ہے۔ وہیں اس کی بحث کا موقع بھی تھا۔ ان احادیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک خاص عنوان کے تحت ا س لیے جمع کیا ہے کہ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے کسی چیز کا خیال آنے یا کچھ سوچنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ خیالات اورتفکرات ایسی چیزیں ہیں جن سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن حالات اور خیالات کی نوعیت کے فرق کا یہاں بھی لحاظ ضرور ہوگا۔ اگر امور آخرت کے متعلق خیالات نماز میں آئیں تو وہ دنیاوی امور کے بنسبت نماز کی خوبیوں پر کم اثر انداز ہونگے ( تفہیم البخاری ) باب اور حدیث میں مطابقت یہ ہے کہ وہ صحابی نماز اور خطرات میں مستغرق رہتا تھا۔پھر بھی وہ اعادہ صلوۃ کے ساتھ مامور نہیں ہوا۔

English Translation: 

Narrated By Abu Huraira : People say that I narrate too many narrations of the Prophet; once I met a man (during the life-time of the Prophet) and asked him, "Which Sura did Allah’s Apostle s recite yesterday in the ‘Isha prayer?” He said, "I do not know.” I said, "Did you not attend the prayer?” He said, "Yes, (I did).” I said, "I know. He recited such and such Sura.”

Related Articles

Back to top button
Close