صحیح بخاریکتاب الجنائز

صحیح بخاری جلد دؤم : کتاب الجنائز( جنازے کے احکام و مسائل) : حدیث:-1366

کتاب الجنائز
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

Chapter No: 84

باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَالاِسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ

It is disliked to offer the funeral prayer for the hypocrites, and to ask Allah’s forgiveness for the Mushrikun (polytheists, pagans, etc.)

باب: منافقوں پر نماز پڑھنا اور مشرکوں کے لیے دعا کرنا۔

رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ رضى الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

This is narrated by Ibn Umar on the authority of the Prophet (s.a.w)

اس کو عبداللہ بن عمرؓ نے نبیﷺ سے روایت کیا ۔

[quote arrow=”yes” "]
1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1366         

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَىٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا ـ أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ ـ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏”‏ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ ‏”‏‏.‏ فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ ‏”‏ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ فَغُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا ‏”‏‏.‏ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الآيَتَانِ مِنْ ‏{‏بَرَاءَةٌ‏}‏ ‏{‏وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا‏}‏ إِلَى ‏{‏وَهُمْ فَاسِقُونَ‏}‏ قَالَ فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏.‏

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1366 – حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنهم ـ أنه قال لما مات عبد الله بن أبى ابن سلول دعي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي عليه، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثبت إليه فقلت يا رسول الله، أتصلي على ابن أبى وقد قال يوم كذا وكذا كذا وكذا ـ أعدد عليه قوله ـ فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال ‏”‏ أخر عني يا عمر ‏”‏‏.‏ فلما أكثرت عليه قال ‏”‏ إني خيرت فاخترت، لو أعلم أني إن زدت على السبعين فغفر له لزدت عليها ‏”‏‏.‏ قال فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انصرف، فلم يمكث إلا يسيرا حتى نزلت الآيتان من ‏{‏براءة‏}‏ ‏{‏ولا تصل على أحد منهم مات أبدا‏}‏ إلى ‏{‏وهم فاسقون‏}‏ قال فعجبت بعد من جرأتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ، والله ورسوله أعلم‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1366 ـ حدثنا یحیى بن بکیر، حدثنی اللیث، عن عقیل، عن ابن شہاب، عن عبید اللہ بن عبد اللہ، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب ـ رضى اللہ عنہم ـ انہ قال لما مات عبد اللہ بن ابى ابن سلول دعی لہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لیصلی علیہ، فلما قام رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم وثبت الیہ فقلت یا رسول اللہ، اتصلی على ابن ابى وقد قال یوم کذا وکذا کذا وکذا ـ اعدد علیہ قولہ ـ فتبسم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم وقال ‏”‏ اخر عنی یا عمر ‏”‏‏.‏ فلما اکثرت علیہ قال ‏”‏ انی خیرت فاخترت، لو اعلم انی ان زدت على السبعین فغفر لہ لزدت علیہا ‏”‏‏.‏ قال فصلى علیہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ثم انصرف، فلم یمکث الا یسیرا حتى نزلت الآیتان من ‏{‏براءۃ‏}‏ ‏{‏ولا تصل على احد منہم مات ابدا‏}‏ الى ‏{‏وہم فاسقون‏}‏ قال فعجبت بعد من جراتی على رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یومئذ، واللہ ورسولہ اعلم‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب عبد اللہ بن ابی ابن سلول(منافق) مرگیا تو رسول اللہ ﷺ اس پر نماز پڑھنے کےلیے بلائے گئے۔جب آپ ﷺ نماز کے ارادے سے کھڑے ہوئے تو میں آپﷺ کی طرف جھپٹا میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپﷺ ابن ابی پر نماز پڑھتے ہیں؟ اس نے تو فلانے دن یہ بات کہی تھی فلانے دن یہ، اس کی کفر کی باتیں میں گننے لگا۔آپﷺ یہ سن کرمسکرائے اور فرمایا: اے عمر اس وقت پیچھے ہٹ جاؤ۔جب میں نے بہت اصرار کیا تو آپﷺ نے فرمایا: اللہ کی طرف سے مجھ کو اختیار ملا ہے اگر میں یہ جانوں کہ ستّر بار سے زیادہ دعا کروں تو اللہ ان کو بخش دے گا تو میں ستّر بار سے زیادہ دعا کروں غرض رسول اللہ ﷺ نے اس پر (جنازے کی) نماز پڑھی اور نماز پڑھ کر لوٹے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ سورۂ براءت کی یہ دو آیتیں اُتریں: ان منافقوں میں سے جو کوئی مرجائے اس پرکبھی نماز مت پڑھنا۔۰۰۰۰۰ وَ ھُم فَاسِقُون تک۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہﷺکے سامنے اپنی اسی دن کی دلیری پر تعجب ہوتا ہے حالانکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ (ہر مصلحت کو) خوب جانتے ہیں۔

حدیث کی اردو تشریح:   

تشریح : عبداللہ بن ابی مدینہ کا مشہور ترین منافق تھا۔ جو عمر بھر اسلام کے خلاف سازشیں کرتا رہا اور اس نے ہرنازک موقع پر مسلمانوں کو اور اسلام کو دھوکا دیا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین تھے۔ انتقال کے وقت اس کے لڑکے کی درخواست پر جو سچا مسلمان تھا‘ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مخالفت کی اور یاد دلایا کہ فلاں فلاں مواقع پر اس نے ایسے ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کئے تھے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فطری محبت وشفقت کی بناپر اس پر نماز پڑھی۔ اس کے بعد وضاحت کے ساتھ ارشاد باری نازل ہوا کہ وَلاَ تُصَلِّ عَلیٰ اَحَدٍ مِّنہُم مَّاتَ اَبَدًا ( التوبہ: 84 ) یعنی کسی منافق کی آپ کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں اس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسی جرات نہ کرتا۔ بہرحال اللہ پاک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی موافقت فرمائی اور منافقین اور مشرکین کے بارے میں کھلے لفظوں میں جنازہ پڑھانے سے روک دیا گیا۔

آج کل نفاق اعتقادی کا علم نا ممکن ہے۔ کیونکہ وحی والہام کا سلسلہ بند ہے۔ لہٰذا کسی کلمہ گو مسلمان کو جو بظاہر ارکان اسلام کا پابند ہو‘ اعتقادی منافق نہیں کہا جاسکتا۔ اور عملی منافق فاسق کے درجہ میں ہے۔ جس پر نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ واللہ اعلم بالصواب۔

English Translation: 

Narrated By ‘Umar bin Al-Khattab : When ‘Abdullah bin Ubai bin Salul died, Allah’s Apostle (p.b.u.h) was called upon to offer his funeral prayer. When Allah’s Apostle stood up to offer the prayer, I got up quickly and said, "O Allah’s Apostle! Are you going to pray for Ibn Ubai and he said so and so on such and such occasions?” And started mentioning all that he had said. Allah’s Apostle smiled and said, "O ‘Umar! Go away from me.” When I talked too much he said, "I have been given the choice and so I have chosen (to offer the prayer). Had I known that he would be forgiven by asking for Allah’s forgiveness for more than seventy times, surely I would have done so.” (‘Umar added): Allah’s Apostle offered his funeral prayer and returned and after a short while the two verses of Surat Bara’ were revealed: i.e. "And never (O Muhammad) pray for any of them who dies… (to the end of the verse) rebellion (9.84)”… (‘Umar added), "Later I astonished at my daring before Allah’s Apostle on that day. And Allah and His Apostle know better.”

Related Articles

Back to top button
Close