صحیح بخاریکتاب الجنائز

صحیح بخاری جلد دؤم : کتاب الجنائز( جنازے کے احکام و مسائل) : حدیث:-1369

کتاب الجنائز
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

Chapter No: 86

باب مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ

What is said regarding the punishment in the grave.

باب: قبر کے عذاب کا بیان۔

وَقَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلاَئِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ‏}‏ هُوَ الْهَوَانُ، وَالْهَوْنُ الرِّفْقُ، وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ‏}‏ وَقَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ * النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ‏}‏
And the Statement of Allah, "… if you could but see, when the Zalimun (polytheists and wrong doers etc.) are in the agonies of death, while the angels are stretching forth their hands (saying), ‘Deliver your soul! This day you shall be recompensed with the torment of degradation’ …” (V.6:93) And also the Statement of Allah, "… we shall Punish them twice, and thereafter they shall be brought back to a great (horrible) torment” (V.9:101) And also the Statement of Allah, "… while an evil torment encompassed Firaun’s (Pharaoh) people. The fire; they are exposed to it, morning and afternoon, and on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels), ‘Cause Fir’aun’s (Pharaoh) people to enter the severest torment!'” (V.40:45,46)
اور اللہ نے (سورت انعام میں) فرمایا ظالم (کافر) موت کی سختیوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلائے کہتے جاتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہاری سزا میں تم کو رسوائی کا عذاب (یعنی قبر کا عذاب) ہونا ہے۔ امام بخاری نے کہا ہُوۡنُ قرآن میں ہَوَانُ کے معنوں میں ہے یعنی ذلت اور رسوائی اور ہُون کا معنیٰ نرمی اور ملائمت ہے اور اللہ نے سورت توبہ میں فرمایا ہم ان کو دو بار عذاب دینگے (یعنی دنیا میں اور قبر میں) پھر بڑے عذاب میں لوٹائے جائیں گے اور سورت مومن میں فرمایا فرعون والوں کو بڑے عذاب نے گھیر لیا ۔ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لیے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ گے۔

[quote arrow=”yes” "]
1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1369         

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ ‏{‏يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ‏}‏ ‏”‏‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا وَزَادَ ‏{‏يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا‏}‏ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ‏‏‏.‏

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1369 – حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ إذا أقعد المؤمن في قبره أتي، ثم شهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، فذلك قوله ‏{‏يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت‏}‏ ‏”‏‏.‏ حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبة بهذا وزاد ‏{‏يثبت الله الذين آمنوا‏}‏ نزلت في عذاب القبر‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1369 ـ حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبۃ، عن علقمۃ بن مرثد، عن سعد بن عبیدۃ، عن البراء بن عازب ـ رضى اللہ عنہما ـ عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال ‏”‏ اذا اقعد المومن فی قبرہ اتی، ثم شہد ان لا الہ الا اللہ، وان محمدا رسول اللہ، فذلک قولہ ‏{‏یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت‏}‏ ‏”‏‏.‏ حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبۃ بہذا وزاد ‏{‏یثبت اللہ الذین آمنوا‏}‏ نزلت فی عذاب القبر‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب مومن کو اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اس کےپاس(فرشتے) آتے ہیں پھر وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچّا معبود نہیں اور حضرت محمّدﷺ اللہ کےرسول ہیں اور سورۃ ابراہیم میں جو اللہ نے فرمایا: کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ٹھیک بات یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے اس کا یہی مطلب ہے۔ ہم سے محمّد بن بشّار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے پھر یہی حدیث بیان کی اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ آیت یُثَبِتُ اللہُ الّذِیۡنَ آمَنُوا قبر کے عذاب میں اُتری۔

حدیث کی اردو تشریح:   

 

English Translation: 

Narrated By Al-Bara’ bin ‘Azib : The Prophet (p.b.u.h) said, "When a faithful believer is made to sit in his grave, then (the angels) come to him and he testifies that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah’s Apostle. And that corresponds to Allah’s statement: Allah will keep firm those who believe with the word that stands firm… (14.27). Narrated By Shu’ba : Same as above and added, "Allah will keep firm those who believe… (14.27) was revealed concerning the punishment of the grave.”

Related Articles

Back to top button
Close