صحیح بخاریکتاب الجنائز

صحیح بخاری جلد دؤم : کتاب الجنائز( جنازے کے احکام و مسائل) : حدیث:-1372

کتاب الجنائز
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

Chapter No: 86

باب مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ

What is said regarding the punishment in the grave.

باب: قبر کے عذاب کا بیان۔

وَقَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلاَئِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ‏}‏ هُوَ الْهَوَانُ، وَالْهَوْنُ الرِّفْقُ، وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ‏}‏ وَقَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ * النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ‏}‏
And the Statement of Allah, "… if you could but see, when the Zalimun (polytheists and wrong doers etc.) are in the agonies of death, while the angels are stretching forth their hands (saying), ‘Deliver your soul! This day you shall be recompensed with the torment of degradation’ …” (V.6:93) And also the Statement of Allah, "… we shall Punish them twice, and thereafter they shall be brought back to a great (horrible) torment” (V.9:101) And also the Statement of Allah, "… while an evil torment encompassed Firaun’s (Pharaoh) people. The fire; they are exposed to it, morning and afternoon, and on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels), ‘Cause Fir’aun’s (Pharaoh) people to enter the severest torment!'” (V.40:45,46)
اور اللہ نے (سورت انعام میں) فرمایا ظالم (کافر) موت کی سختیوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلائے کہتے جاتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہاری سزا میں تم کو رسوائی کا عذاب (یعنی قبر کا عذاب) ہونا ہے۔ امام بخاری نے کہا ہُوۡنُ قرآن میں ہَوَانُ کے معنوں میں ہے یعنی ذلت اور رسوائی اور ہُون کا معنیٰ نرمی اور ملائمت ہے اور اللہ نے سورت توبہ میں فرمایا ہم ان کو دو بار عذاب دینگے (یعنی دنیا میں اور قبر میں) پھر بڑے عذاب میں لوٹائے جائیں گے اور سورت مومن میں فرمایا فرعون والوں کو بڑے عذاب نے گھیر لیا ۔ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لیے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ گے۔

[quote arrow=”yes” "]
1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1372         

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، سَمِعْتُ الأَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ يَهُودِيَّةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ، فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ‏.‏ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ ‏”‏ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ ‏”‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ‏.‏ زَادَ غُنْدَرٌ ‏”‏ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ ‏”‏‏.‏

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1372 – حدثنا عبدان، أخبرني أبي، عن شعبة، سمعت الأشعث، عن أبيه، عن مسروق، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن يهودية، دخلت عليها، فذكرت عذاب القبر، فقالت لها أعاذك الله من عذاب القبر‏.‏ فسألت عائشة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عذاب القبر فقال ‏”‏ نعم عذاب القبر ‏”‏‏.‏ قالت عائشة ـ رضى الله عنها ـ فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد صلى صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر‏.‏ زاد غندر ‏”‏ عذاب القبر حق ‏”‏‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1372 ـ حدثنا عبدان، اخبرنی ابی، عن شعبۃ، سمعت الاشعث، عن ابیہ، عن مسروق، عن عائشۃ ـ رضى اللہ عنہا ـ ان یہودیۃ، دخلت علیہا، فذکرت عذاب القبر، فقالت لہا اعاذک اللہ من عذاب القبر‏.‏ فسالت عائشۃ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عن عذاب القبر فقال ‏”‏ نعم عذاب القبر ‏”‏‏.‏ قالت عائشۃ ـ رضى اللہ عنہا ـ فما رایت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بعد صلى صلاۃ الا تعوذ من عذاب القبر‏.‏ زاد غندر ‏”‏ عذاب القبر حق ‏”‏‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور قبر کے عذاب کا ذکر کرکے کہنے لگی اللہ تجھ کو قبر کے عذاب سے بچائےرکھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا قبر میں عذاب ہوگا؟آپﷺ نے فرمایا: ہاں قبر کا عذاب سچ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں،پھر میں نے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپﷺنے کوئی نماز پڑھی ہو مگر اس میں قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ غندر نے اپنی روایت میں اتنا اور اضافہ کیا کہ عذابِ قبر برحق ہے۔

حدیث کی اردو تشریح:   

 

English Translation: 

Narrated By Masruq : ‘Aisha said that a Jewess came to her and mentioned the punishment in the grave, saying to her, "May Allah protect you from the punishment of the grave.” ‘Aisha then asked Allah’s Apostle about the punishment of the grave. He said, "Yes, (there is) punishment in the grave.” ‘Aisha added, "After that I never saw Allah’s Apostle but seeking refuge with Allah from the punishment in the grave in every prayer he prayed.”

Related Articles

Back to top button
Close