صحیح بخاریکتاب الصلاۃ

صحیح بخاری جلد اول :مواقیت الصلوات (اوقات نماز کا بیان) : حدیث:-597

كتاب مواقيت الصلاة
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
THE BOOK OF THE TIMES OF AS-SALAT (THE PRAYERS) AND ITS SUPERIORITY.
37- بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا وَلاَ يُعِيدُ إِلاَّ تِلْكَ الصَّلاَةَ:
باب: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اس وقت پڑھ لے اور فقط وہی نماز پڑھے۔

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ مَنْ تَرَكَ صَلاَةً وَاحِدَةً عِشْرِينَ سَنَةً لَمْ يُعِدْ إِلاَّ تِلْكَ الصَّلاَةَ الْوَاحِدَةَ.
‏‏‏‏ اور فقط وہی نماز پڑھے اور ابراہیم نخعی نے کہا جو شخص بیس سال تک ایک نماز چھوڑ دے تو فقط وہی ایک نماز پڑھ لے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ” مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا ، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ ، وَأَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي ” ، قَالَ مُوسَى : قَالَ هَمَّامٌ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعْدُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ للذِّكْرَى ، وَقَالَ حَبَّانُ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَاأَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .

حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:         

597 ـ حدثنا أبو نعيم، وموسى بن إسماعيل، قالا حدثنا همام، عن قتادة، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ من نسي صلاة فليصل إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك ‏”‏‏.‏ ‏{‏وأقم الصلاة لذكري‏}‏ قال موسى قال همام سمعته يقول بعد ‏{‏وأقم الصلاة لذكري‏}‏‏.‏

الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

597 ـ حدثنا ابو نعیم، وموسى بن اسماعیل، قالا حدثنا ہمام، عن قتادۃ، عن انس، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال ‏”‏ من نسی صلاۃ فلیصل اذا ذکرہا، لا کفارۃ لہا الا ذلک ‏”‏‏.‏ ‏{‏واقم الصلاۃ لذکری‏}‏ قال موسى قال ہمام سمعتہ یقول بعد ‏{‏واقم الصلاۃ لذکری‏}‏‏.‏

‏‏اردو ترجمہ:  

´ہم سے ابونعیم فضل بن دکین اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اور (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔ موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے۔ حبان بن ہلال نے کہا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔

حدیث کی اردو تشریح:   

تشریح : اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ قضاءشدہ نمازدوبارپڑھے، ایک بار جب یاد آئے اوردوسری بار دوسرے دن اس کے وقت پر پڑھے۔ اس موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت شریفہ واقم الصلوٰۃ لذکری اس لیے تلاوت فرمائی کہ قضا نماز جب بھی یاد آجائے اس کا وہی وقت ہے۔ اسی وقت اسے پڑھ لیا جائے۔ شارحین لکھتے ہیں: فی الایۃ وجوہ من المعانی اقربہا مناسبۃ بذلک الحدیث ان یقال اقم الصلوٰۃ وقت ذکرہا فان ذکرالصلوٰۃ ہو ذکراللہ تعالیٰ اویقدر المضاف فیقال اقم الصلوٰۃ وقت ذکر صلوٰتی یعنی نماز یاد آنے کے وقت پر قائم کرو۔ 

 

English Translation: 

Narrated Anas: The Prophet said, "If anyone forgets a prayer he should pray that prayer when he remembers it. There is no expiation except to pray the same.” Then he recited: "Establish prayer for My (i.e. Allah’s) remembrance.” (20.14).

Related Articles

Back to top button
Close