صحیح بخاریکتاب العیدین

صحیح بخاری جلد دؤم :کتاب استسقاء (پانی مانگنے کا بیان) : حدیث:-1007

كتاب الاستسقاء
کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

( The Book of)(Invoking Allah for Rain (Istisqaa)

2- بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرنا کہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال (قحط) کے گزرے ہیں۔

[quote arrow=”yes” “]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:[sta_anchor id=”top”]

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  [sta_anchor id=”artash”]

حدیث نمبر:1007          

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا ، قَالَ : ” اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَالْجِيَفَ وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الْجُوعِ ” ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى سورة الدخان آية 10 – 16 ، فَالْبَطْشَةُ : يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتِ الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ .

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:  
[sta_anchor id=”arnotash”]

1007 ـ حدثنا عثمان بن أبي شيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي الضحى، عن مسروق، قال كنا عند عبد الله فقال إن النبي صلى الله عليه وسلم لما رأى من الناس إدبارا قال ‏”‏ اللهم سبع كسبع يوسف ‏”‏‏.‏ فأخذتهم سنة حصت كل شىء حتى أكلوا الجلود والميتة والجيف، وينظر أحدهم إلى السماء فيرى الدخان من الجوع، فأتاه أبو سفيان فقال يا محمد إنك تأمر بطاعة الله وبصلة الرحم وإن قومك قد هلكوا، فادع الله لهم قال الله تعالى ‏{‏فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏}‏ إلى قوله ‏{‏عائدون * يوم نبطش البطشة الكبرى‏}‏ فالبطشة يوم بدر، وقد مضت الدخان والبطشة واللزام وآية الروم‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]

1007 ـ حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ، قال حدثنا جریر، عن منصور، عن ابی الضحى، عن مسروق، قال کنا عند عبد اللہ فقال ان النبی صلى اللہ علیہ وسلم لما راى من الناس ادبارا قال ‏”‏ اللہم سبع کسبع یوسف ‏”‏‏.‏ فاخذتہم سنۃ حصت کل شىء حتى اکلوا الجلود والمیتۃ والجیف، وینظر احدہم الى السماء فیرى الدخان من الجوع، فاتاہ ابو سفیان فقال یا محمد انک تامر بطاعۃ اللہ وبصلۃ الرحم وان قومک قد ہلکوا، فادع اللہ لہم قال اللہ تعالى ‏{‏فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین‏}‏ الى قولہ ‏{‏عائدون * یوم نبطش البطشۃ الکبرى‏}‏ فالبطشۃ یوم بدر، وقد مضت الدخان والبطشۃ واللزام وایۃ الروم‏.‏

‏‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے (دوسری سند) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور بن مسعود بن معتمر سے بیان کیا، اور ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار قریش کی سرکشی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی «اللهم سبع كسبع يوسف» کہ اے اللہ! سات برس کا قحط ان پر بھیج جیسے یوسف علیہ السلام کے وقت میں بھیجا تھا چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ ہر چیز تباہ ہو گئی اور لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھا لیے۔ بھوک کی شدت کا یہ عالم تھا کہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی جاتی تو دھویں کی طرح معلوم ہوتا تھا آخر مجبور ہو کر ابوسفیان حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اب تو آپ ہی کی قوم برباد ہو رہی ہے، اس لیے آپ اللہ سے ان کے حق میں دعا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن کا انتظار کر جب آسمان صاف دھواں نظر آئے گا آیت «انکم عائدون» تک (نیز) جب ہم سختی سے ان کی گرفت کریں گے (کفار کی) سخت گرفت بدر کی لڑائی میں ہوئی۔ دھویں کا بھی معاملہ گزر چکا (جب سخت قحط پڑا تھا) جس میں پکڑ اور قید کا ذکر ہے وہ سب ہو چکے اسی طرح سورۃ الروم کی آیت میں جو ذکر ہے وہ بھی ہو چکا۔


حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”] تشریح : یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف رکھتے تھے۔ قحط کی شدت کا یہ عالم تھا کہ قحط زدہ علاقے ویرانے بن گئے تھے۔ ابو سفیان نے اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور صلہ رحمی کا واسطہ دے کر رحم کی درخواست کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا فرمائی اور قحط ختم ہوا یہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ استسقاءمیں اس لیے لائے کہ جیسے مسلمانوں کے لیے بارش کی دعا کرنا مسنون ہے اسی طرح کافروں پر قحط کی بد دعا کرنا جائز ہے۔ روایت میں جن مسلمان مظلوموں کا ذکر ہے یہ سب کافروں کی قید میں تھے۔ آپ کی دعا کی برکت سے اللہ نے ان کو چھوڑا دیا اور وہ مدینہ میں آپ کے پاس آگئے۔ سات سال تک حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط پڑا تھا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ غفار اور اسلم یہ دو قومیں مدینہ کے ارد گرد رہتی تھیں۔ غفار قدیم سے مسلمان تھے اور اسلم نے آپ سے صلح کر لی تھی۔ پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے“اس دن کا منتظر رہ جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لے کر آئے گا جو لوگوں کو گھیر ے گا۔ یہی تکلیف کا عذاب ہے اس وقت لوگ کہیں گے مالک ہمارے!یہ عذاب ہم پرسے اٹھا دے ہم ایمان لاتے ہیں”آخرتک۔ یہاں سورۃ دخان میں بطش اور دخان کا ذکر ہے۔

اور سورۃ فرقان میں فسوف یکون لزاما ( الفرقان: 77 ) لزام یعنی کافروں کے لیے قید ہونے کا ذکر ہے۔ یہ تینوں باتیں آپ کے عہد میں ہی پوری ہوگئی تھیں۔ دخان سے مراد قحط تھا جو اہل مکہ پر نازل ہوا جس میں بھوک کی وجہ سے آسمان دھواں نظر آتا تھا اور ( بطشۃ الکبری ) ( بڑی پکڑ ) سے کافروں کا جنگ بدر میں مارا جانا مراد ہے اور لزام ان کا قید ہونا۔ سورۃ روم کی آیت میں یہ بیان تھا کہ رومی کافر ایرانیوں سے مغلوب ہوگئے لیکن چند سال میں رومی پھر غالب ہو جائیں گے۔ یہ بھی ہو چکا۔ آئندہ حدیث میں شعر (ستسقی الغمام الخ ) ابو طالب کے ایک طویل قصیدے کا ہے جو قصیدہ ایک سودس ( 110 ) اشعار پر مشتمل ہے جسے ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا تھا۔
English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Masruq:

We were with ‘Abdullah and he said, “When the Prophet saw the refusal of the people to accept Is-lam he said, “O Allah! Send (famine) years on them for (seven years) like the seven years (of famine during the time) of (Prophet) Joseph.” So famine overtook them for one year and destroyed every kind of life to such an extent that the people started eating hides, carcasses and rotten dead animals. Whenever one of them looked towards the sky, he would (imagine himself to) see smoke because of hunger. So Abu Sufyan went to the Prophet and said, “O Muhammad! You order people to obey Allah and to keep good relations with kith and kin. No doubt the people of your tribe are dying, so please pray to Allah for them.” So Allah revealed: “Then watch you For the day that The sky will bring forth a kind Of smoke Plainly visible … Verily! You will return (to disbelief) On the day when We shall seize You with a mighty grasp. (44.10-16) Ibn Masud added, “Al-Batsha (i.e. grasp) happened in the battle of Badr and no doubt smoke, Al-Batsha, Al-Lizam, and the verse of Surat Ar-Rum have all passed .

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

code

Back to top button
Close