صحیح بخاریکتاب العیدین

صحیح بخاری جلد دؤم :کتاب استسقاء (پانی مانگنے کا بیان) : حدیث:-1016

كتاب الاستسقاء
کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

( The Book of)(Invoking Allah for Rain (Istisqaa)

9- بَابُ مَنِ اكْتَفَى بِصَلاَةِ الْجُمُعَةِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا (یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے)۔

[quote arrow=”yes” “]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:[sta_anchor id=”top”]

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  [sta_anchor id=”artash”]

حدیث نمبر:1016          

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ ، فَدَعَا فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا ، فَقَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ” اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَانْجَابَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ ” .

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:  
[sta_anchor id=”arnotash”]

1016 ـ حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن شريك بن عبد الله، عن أنس، قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت المواشي وتقطعت السبل‏.‏ فدعا، فمطرنا من الجمعة إلى الجمعة، ثم جاء فقال تهدمت البيوت وتقطعت السبل، وهلكت المواشي فادع الله يمسكها‏.‏ فقام صلى الله عليه وسلم فقال ‏”‏ اللهم على الآكام والظراب والأودية ومنابت الشجر ‏”‏‏.‏ فانجابت عن المدينة انجياب الثوب‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]

1016 ـ حدثنا عبد اللہ بن مسلمۃ، عن مالک، عن شریک بن عبد اللہ، عن انس، قال جاء رجل الى النبی صلى اللہ علیہ وسلم فقال ہلکت المواشی وتقطعت السبل‏.‏ فدعا، فمطرنا من الجمعۃ الى الجمعۃ، ثم جاء فقال تہدمت البیوت وتقطعت السبل، وہلکت المواشی فادع اللہ یمسکہا‏.‏ فقام صلى اللہ علیہ وسلم فقال ‏”‏ اللہم على الاکام والظراب والاودیۃ ومنابت الشجر ‏”‏‏.‏ فانجابت عن المدینۃ انجیاب الثوب‏.‏

‏‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے، ان کو انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ` ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جانور ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی پھر ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ (بارش کی کثرت سے) گھر گر گئے راستے بند ہو گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر دعا کی «اللهم على الآكام والظراب والأودية ومنابت الشجر» کہ اے اللہ! بارش ٹیلوں، پہاڑوں، وادیوں اور باغوں میں برسا (دعا کے نتیجہ میں) بادل مدینہ سے اس طرح پھٹ گئے جیسے کپڑا پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔


حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

 

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Anas:

A man came to the Prophet (p.b.u.h) and said, “Livestock are destroyed and the roads are cut off.” So Allah’s Apostle invoked Allah for rain and it rained from that Friday till the next Friday. The same person came again and said, “Houses have collapsed, roads are cut off, and the livestock are des-troyed. Please pray to Allah to withhold the rain.” Allah’s Apostle (stood up and) said, “O Allah! (Let it rain) on the plateaus, on the hills, in the valleys and over the places where trees grow.” So the clouds cleared away from Medina as clothes are taken off .

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

code

Back to top button
Close