صحیح بخاریکتاب الکسوف

صحیح بخاری جلد دؤم :كتاب الكسوف (سورج گہن کے متعلق بیان) : حدیث:-1052

كتاب الكسوف
کتاب: سورج گہن کے متعلق بیان

Chapter No: 9

باب صَلاَةِ الْكُسُوفِ جَمَاعَةً

To offer the eclipse prayer in congregation.

باب : گہن کی نماز جماعت سے پڑھنا

وَصَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ لَهُمْ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ‏.‏ وَجَمَعَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ‏.‏ وَصَلَّى ابْنُ عُمَرَ

Ibn Abbas offered the eclipse prayer with the people by the side of the Zamzam well. Ali bin Abdullah bin Abbas also offered that Salat in congregation and Ibn Umar also offered it the same way

اور ابن عباسؓ نے گہن کی نماز زمزم کے سائبان میں پڑھائی اورعلی بن عبداللہ بن عباسؓ نے لوگوں کو گہن کی نماز کے لئے جمع کیا اورابن عمرؓ نے نماز پڑھائی۔

[quote arrow=”yes” “]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:[sta_anchor id=”top”]

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  [sta_anchor id=”artash”]

حدیث نمبر:1052          

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ‏”‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَعْكَعْتَ‏.‏ قَالَ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُودًا، وَلَوْ أَصَبْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَأُرِيتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ‏”‏‏.‏ قَالُوا بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏”‏ بِكُفْرِهِنَّ ‏”‏‏.‏ قِيلَ يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ ‏”‏ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ‏‏‏.‏‏‏‏‏‏‏‏‏

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:  
[sta_anchor id=”arnotash”]

1052 ـ حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عباس، قال انخسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام قياما طويلا نحوا من قراءة سورة البقرة، ثم ركع ركوعا طويلا، ثم رفع فقام قياما طويلا، وهو دون القيام الأول، ثم ركع ركوعا طويلا، وهو دون الركوع الأول، ثم سجد، ثم قام قياما طويلا وهو دون القيام الأول، ثم ركع ركوعا طويلا، وهو دون الركوع الأول، ثم رفع فقام قياما طويلا، وهو دون القيام الأول، ثم ركع ركوعا طويلا، وهو دون الركوع الأول، ثم سجد، ثم انصرف وقد تجلت الشمس، فقال صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله، لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، فإذا رأيتم ذلك فاذكروا الله ‏”‏‏.‏ قالوا يا رسول الله، رأيناك تناولت شيئا في مقامك، ثم رأيناك كعكعت‏.‏ قال صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إني رأيت الجنة، فتناولت عنقودا، ولو أصبته لأكلتم منه ما بقيت الدنيا، وأريت النار، فلم أر منظرا كاليوم قط أفظع، ورأيت أكثر أهلها النساء ‏”‏‏.‏ قالوا بم يا رسول الله قال ‏”‏ بكفرهن ‏”‏‏.‏ قيل يكفرن بالله قال ‏”‏ يكفرن العشير، ويكفرن الإحسان، لو أحسنت إلى إحداهن الدهر كله، ثم رأت منك شيئا قالت ما رأيت منك خيرا قط ‏”‏‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]

1052 ـ حدثنا عبد اللہ بن مسلمۃ، عن مالک، عن زید بن اسلم، عن عطاء بن یسار، عن عبد اللہ بن عباس، قال انخسفت الشمس على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فصلى رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فقام قیاما طویلا نحوا من قراءۃ سورۃ البقرۃ، ثم رکع رکوعا طویلا، ثم رفع فقام قیاما طویلا، وہو دون القیام الاول، ثم رکع رکوعا طویلا، وہو دون الرکوع الاول، ثم سجد، ثم قام قیاما طویلا وہو دون القیام الاول، ثم رکع رکوعا طویلا، وہو دون الرکوع الاول، ثم رفع فقام قیاما طویلا، وہو دون القیام الاول، ثم رکع رکوعا طویلا، وہو دون الرکوع الاول، ثم سجد، ثم انصرف وقد تجلت الشمس، فقال صلى اللہ علیہ وسلم ‏”‏ ان الشمس والقمر آیتان من آیات اللہ، لا یخسفان لموت احد ولا لحیاتہ، فاذا رایتم ذلک فاذکروا اللہ ‏”‏‏.‏ قالوا یا رسول اللہ، رایناک تناولت شیئا فی مقامک، ثم رایناک کعکعت‏.‏ قال صلى اللہ علیہ وسلم ‏”‏ انی رایت الجنۃ، فتناولت عنقودا، ولو اصبتہ لاکلتم منہ ما بقیت الدنیا، واریت النار، فلم ار منظرا کالیوم قط افظع، ورایت اکثر اہلہا النساء ‏”‏‏.‏ قالوا بم یا رسول اللہ قال ‏”‏ بکفرہن ‏”‏‏.‏ قیل یکفرن باللہ قال ‏”‏ یکفرن العشیر، ویکفرن الاحسان، لو احسنت الى احداہن الدہر کلہ، ثم رات منک شیئا قالت ما رایت منک خیرا قط ‏”‏‏.‏

‏‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺکے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپﷺ نے نماز پڑھائی اور آپﷺ کافی دیر تک کھڑے رہے جتنی دیر میں کوئی سورۂ بقرہ پڑھے۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ پہلی بار سے کم تھا۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا پھر دونوں سجدوں کے بعد دیر تک کھڑے رہے اور یہ اگلی بار سے کم تھا۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا اور یہ اگلے رکوع سے کم تھا۔پھر رکوع سے سر اٹھایا۔پھر دیر تک کھڑے رہے۔اور یہ اگلی بار سے کم تھا۔پھر ایک لمبا رکوع کیا۔ یہ اگلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا، پھر نماز سے فارغ ہوئے۔ اس وقت سورج روشن ہوگیا تھا۔ پھر فرمایا: سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت یا حیات سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم یہ گرہن دیکھو تواللہ کو یاد کرو۔ لوگوں نے عرض کیا ہم نے دیکھا آپﷺ ( نماز ہی میں)اپنی جگہ جیسے کوئی چیز لینے لگے پھر آپﷺ پیچھے ہٹے۔ آپﷺ نے فرمایا میں نے جنت دیکھی میں اس میں سے ایک خوشہ لینے کو تھا اور اگر لے لیتا تو جب تک دنیا قائم ہے تم اس میں سے کھاتے رہتے اور میں نے دوزخ دیکھی۔ میں نے آج کے دن سے بڑھ کر کوئی ڈراؤنی چیز کبھی نہیں دیکھی میں نے دیکھا اس میں عورتیں بہت ہیں لوگوں نے عرض کیا کیوں یا رسول اللہﷺ! اس کی کیا وجہ ہے؟۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ کفر کرتی ہیں۔لوگوں نے کہا: اللہ کا کفر۔ آ پﷺ نے فرمایا: نہیں خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور احسان نہیں مانتیں۔ اگر تم کسی عورت کے ساتھ عمر بھر احسان کرو پھر وہ ایک ذرا سی برائی تم سے دیکھے تو کہتی ہے میں نے تم میں کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔


حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : یہ حدیث اس سے قبل بھی گزر چکی ہے، دوزخ اور جنت کی تصویریں آپ کو دکھلادیں، اس حدیث میں عورتوں کا بھی ذکر ہے جس میں ان کے کفر سے ناشکری مراد ہے۔ بعضوں نے کہا کہ آپ نے اصل جنت اور دوزخ کو دیکھا کہ پردہ درمیان سے اٹھ گیا یا یہ مراد ہے کہ دوزخ اور جنت کا ایک ایک ٹکڑا بطور نمونہ آپ کو دکھلایا گیا۔ بہر حال یہ عالم بزرخ کی چیز ہے جس طرح حدیث میں آگیا ہمارا ایمان ہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جنت کے خوشے کے لیے آپ نے جو فرمایا وہ اس لیے کہ جنت اور نعمائے جنت کے لیے فنا نہیں ہے اس لیے وہ خوشہ اگر آجاتا تو وہ یہاں دنیا کے قائم رہنے تک رہتا مگر یہ عالم دنیا اس کا محل نہیں اس لیے اس کاآپ کو معائنہ کرایا گیا۔ اس روایت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر رکعت میں دو رکوع کرنے کا ذکر ہے جس کے پیش نظر برادران احناف نے بھی بہر حال اپنے مسلک کے خلاف اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے جو قابل تحسین ہے چنا نچہ صاحب تفہیم البخاری کے الفاظ ملاحظہ ہوں آپ فرماتے ہیں اس باب کی تمام احادیث میں قابل غور بات یہ ہے کہ راویوں نے اس پر خاص طور سے زور دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں دو رکوع کئے تھے چنا نچہ قیام پھر رکوع پھر قیام پھر رکوع کی کیفیت پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن سجدہ کا ذکر جب آیا تو صرف اسی پر اکتفا کیا کہ آپ نے سجدہ کیا تھا اس کی کوئی تفصیل نہیں کہ سجدے کتنے تھے کیونکہ راویوں کے پیش نظر اس نماز کے امتیازات کو بیان کرنا ہے اس سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ رکوع ہر رکعت میں آپ نے دو کئے تھے اور جن میں ایک رکوع کا ذکر ہے ان میں اختصار سے کام لیا گیاہے۔

 

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated By ‘Abdullah bin Abbas : The sun eclipsed in the life-time of the Prophet (p.b.u.h). Allah’s Apostle offered the eclipse prayer and stood for a long period equal to the period in which one could recite Surat-al-Baqara. Then he bowed for a long time and then stood up for a long period which was shorter than that of the first standing, then bowed again for a long time but for a shorter period than the first; then he prostrated twice and then stood up for a long period which was shorter than that of the first standing; then he bowed for a long time which was shorter than the previous one, and then he raised his head and stood up for a long period which was shorter than the first standing, then he bowed for a long time which was shorter than the first bowing, and then prostrated (twice) and finished the prayer. By then, the sun (eclipse) had cleared. The Prophet then said, “The sun and the moon are two of the signs of Allah. They eclipse neither because of the death of somebody nor because of his life (i.e. birth). So when you see them, remember Allah.” The people say, “O Allah’s Apostle! We saw you taking something from your place and then we saw you retreating.” The Prophet replied, “I saw Paradise and stretched my hands towards a bunch (of its fruits) and had I taken it, you would have eaten from it as long as the world remains. I also saw the Hell-fire and I had never seen such a horrible sight. I saw that most of the inhabitants were women.” The people asked, “O Allah’s Apostle! Why is it so?” The Prophet replied, “Because of their ungratefulness.” It was asked whether they are ungrateful to Allah. The Prophet said, “They are ungrateful to their companions of life (husbands) and ungrateful to good deeds. If you are benevolent to one of them throughout the life and if she sees anything (undesirable) in you, she will say, ‘I have never had any good from you.'”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

code

Back to top button
Close