صحیح بخاری جلد دؤم :کتاب تقصیر الصلوۃ (نماز میں قصر کرنے کا بیان) : حدیث:-1100

كتاب تقصير الصلاة
کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

Chapter No: 10

باب صَلاَةِ التَّطَوُّعِ عَلَى الْحِمَارِ

To offer the Nawafil (non-obligatory prayer) while riding on a donkey.

باب: گدھے پر سوار رہ کر نفل نماز پڑھنا ۔

[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:[sta_anchor id=”top”]

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  [sta_anchor id=”artash”]

حدیث نمبر:1100          

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ اسْتَقْبَلْنَا أَنَسًا حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّأْمِ، فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ‏.‏ فَقُلْتُ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ‏.‏ فَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ‏.‏ رَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏‏.‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:  
[sta_anchor id=”arnotash”]

1100 ـ حدثنا أحمد بن سعيد، قال حدثنا حبان، قال حدثنا همام، قال حدثنا أنس بن سيرين، قال استقبلنا أنسا حين قدم من الشأم، فلقيناه بعين التمر، فرأيته يصلي على حمار ووجهه من ذا الجانب، يعني عن يسار القبلة‏.‏ فقلت رأيتك تصلي لغير القبلة‏.‏ فقال لولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله لم أفعله‏.‏ رواه ابن طهمان عن حجاج عن أنس بن سيرين عن أنس ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
1100 ـ حدثنا احمد بن سعید، قال حدثنا حبان، قال حدثنا ہمام، قال حدثنا انس بن سیرین، قال استقبلنا انسا حین قدم من الشام، فلقیناہ بعین التمر، فرایتہ یصلی على حمار ووجہہ من ذا الجانب، یعنی عن یسار القبلۃ‏.‏ فقلت رایتک تصلی لغیر القبلۃ‏.‏ فقال لولا انی رایت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فعلہ لم افعلہ‏.‏ رواہ ابن طہمان عن حجاج عن انس بن سیرین عن انس ـ رضى اللہ عنہ ـ عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم‏.‏

‏‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

حضرت انس بن سیرین نے خبر دی انہوں نے کہا: ہم انس رضی اللہ عنہ کے استقبال کو نکلے جب وہ شام سے( لوٹ کر )آرہے تھے ہم ان سے عین التمر میں ملے میں نے ان کو دیکھا وہ گدھے پر سوار نماز پڑھ رہےہیں اور ان کا منہ قبلے سے بائیں طرف تھا میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں آپ قبلے کے سوا دوسری طرف نماز پڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ کرتا۔


حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بصرہ سے شام میں خلیفہ وقت عبد الملک بن مروان کے ہاں حجاج بن یوسف ظالم ثقفی کی شکایت لے کر گئے تھے۔ جب لوٹ کر بصرہ آئے تو انس بن سیرین آپ کے استقبال کو گئے اور آپ کو دیکھا کہ گدھے پر نفل نماز اشاروں سے ادا کر رہے ہیں اور منہ بھی غیر قبلہ کی طرف ہے۔آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سواری پر نفل نماز ایسے ہی پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ روایت مسلم میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یوں ہے رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی علی حمار وھو متوجہ الی خیبر کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ( نفل نماز ) گدھے پر ادا فرما رہے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک خیبر کی طرف تھا۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابراہیم بن طہمان کی سند سے نقل فرمایا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ کو یہ حدیث ابراہیم بن طہمان کے طریق سے موصولا نہیں ملی، البتہ سراج نے عمرو بن عامر سے، انہوں نے حجاج سے، اس لفظ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے چاہے جدھر وہ منہ کرتی تو حضر ت انس رضی اللہ عنہ نے گدھے پر نماز پڑھنے کو اونٹنی کے اوپر پڑھنے پر قیاس کیا اور سراج نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا اور آپ خیبر کی طرف منہ کئے ہوئے تھے۔ علامہ شوکانی فرماتے ہیں کہ نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا بالاجماع فرض ہے۔ مگر جب آدمی عاجز ہو یا خوف ہو یا نفل نماز ہو تو ان حالات میں یہ فرض اٹھ جاتا ہے۔ نفل نماز کے لیے بھی ضروری ہے کہ شروع کرتے وقت نیت باندھنے پر منہ قبلہ رخ ہو بعد میں وہ سواری جدھر بھی رخ کرے نماز نفل ادا کرنا جائز ہے۔ عین التمر ایک گاؤں ملک شام میں عراق کی طرف واقع ہے۔
اس روایت سے ثابت ہو اکہ کسی ظالم حاکم کی شکایت بڑے حاکم کو پہنچانا معیوب نہیں ہے اور یہ کہ کسی بزرگ کے استقبال کے لیے چل کر جانا عین ثواب ہے اور یہ بھی کہ بڑے لوگوں سے چھوٹے آدمی مسائل کی تحقیق کر سکتے ہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ دلیل پیش کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ مومن کے لیے اس سے آگے گنجائش نہیں۔ اس لیے بالکل سچ کہا گیا ہے۔
 

اصل دیں آمد کلام اللہ معظم داشتن
پس حدیث مصطفی برجاں مسلم داشتن

یعنی دین کی بنیاد ہی یہ ہے کہ قرآن مجید کو حد درجہ قابل تعظیم کہا جائے اور پس احادیث نبوی کو دل وجان سے تسلیم کیا جائے۔
 
English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated By Anas bin Sirin : We went to receive Anas bin Malik when he returned from Sham and met him at a place called ‘Ain-at-Tamr. I saw him praying riding the donkey, with his face to this direction, i.e. to the left of the Qibla. I said to him, "I have seen you offering the prayer in a direction other than that of the Qibla.” He replied, "If I had not seen Allah’s Apostle doing it, I would not have done it.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں