صحیح بخاری جلد اول :كتاب الصلاة (نماز کا بیان) : حدیث:-463

كتاب الصلاة
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
.(THE BOOK OF AS-SALAT (THE PRAYER
77- بَابُ الْخَيْمَةِ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَرْضَى وَغَيْرِهِمْ:
باب: مسجد میں مریضوں وغیرہ کے لیے خیمہ لگانا۔

1: حدیث اعراب کے ساتھ:[sta_anchor id=”top”]

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  [sta_anchor id=”artash”]

حدیث نمبر:463

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ "أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الْأَكْحَلِ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرُعْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ، ‏‏‏‏‏‏مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ؟ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ فِيهَا”.‏‏‏‏
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
 
463 ـ حدثنا زكرياء بن يحيى، قال حدثنا عبد الله بن نمير، قال حدثنا هشام، عن أبيه، عن عائشة، قالت أصيب سعد يوم الخندق في الأكحل، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب، فلم يرعهم ـ وفي المسجد خيمة من بني غفار ـ إلا الدم يسيل إليهم فقالوا يا أهل الخيمة، ما هذا الذي يأتينا من قبلكم فإذا سعد يغذو جرحه دما، فمات فيها‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
463 ـ حدثنا زکریاء بن یحیى، قال حدثنا عبد اللہ بن نمیر، قال حدثنا ہشام، عن ابیہ، عن عایشۃ، قالت اصیب سعد یوم الخندق فی الاکحل، فضرب النبی صلى اللہ علیہ وسلم خیمۃ فی المسجد لیعودہ من قریب، فلم یرعہم ـ وفی المسجد خیمۃ من بنی غفار ـ الا الدم یسیل الیہم فقالوا یا اہل الخیمۃ، ما ہذا الذی یاتینا من قبلکم فاذا سعد یغذو جرحہ دما، فمات فیہا‏.‏
اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ بن زبیر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا کہ غزوہ خندق میں سعد (رضی اللہ عنہ) کے بازو کی ایک رگ (اکحل) میں زخم آیا تھا۔ ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرا دیا تاکہ آپ قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال کیا کریں۔ مسجد ہی میں بنی غفار کے لوگوں کا بھی ایک خیمہ تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کے زخم کا خون (جو رگ سے بکثرت نکل رہا تھا) بہہ کر جب ان کے خیمہ تک پہنچا تو وہ ڈر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ کیسا خون ہمارے خیمہ تک آ رہا ہے۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ خون سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے بہہ رہا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کا اسی زخم کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ذی قعدہ 4 ھ میں جنگ خندق کی لڑائی میں ابن عرقہ نامی ایک کافر کے تیر سے زخمی ہوگئے تھے جو جان لیوا ثابت ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت کی ضرورت کے تحت ان کا خیمہ مسجد ہی میں لگوادیاتھا جنگی حالات میں ایسے امور پیش آجاتے ہیں اوران ملی مقاصدکے لیے مساجد تک کو استعمال کیا جاسکتاہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مقصد ہے۔ آپ کی بالغ نگاہ احادیث کی روشنی میں وہاں تک پہنچتی ہے جہاں دوسرے علماءکی نگاہیں کم پہنچتی ہیں اوروہ اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے خواہ مخواہ حضرت امام پر اعتراضات کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی عقلوں کا علاج کراناچاہئیے۔ اسی وجہ سے جملہ فقہاءمحدثین کرام میں حضرت امام بخاری قدس سرہ کا مقام بہت اونچا ہے۔ ( رحمۃ اللہ علیہ
English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated `Aisha: On the day of Al-Khandaq (battle of the Trench’ the medial arm vein of Sa`d bin Mu`ad [??] was injured and the Prophet pitched a tent in the mosque to look after him. There was another tent for Banu Ghaffar in the mosque and the blood started flowing from Sa`d’s tent to the tent of Bani Ghaffar. They shouted, "O occupants of the tent! What is coming from you to us?” They found that Sa`d’ wound was bleeding profusely and Sa`d died in his tent.

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں