امام بخاری اور صحیح بخاری پر دیگر ائمہ کی تنقید کی اصلیت

پشاورکے ایک خطیب صاحب جوآئے روز امام بخاری کی الصحیح پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں ،، آج ایک کلپ میں ان محدثین علماء کے ناموں کا تذکرہ کررہے تھے ، جنھوں نے امام بخاری کی الصحیح پر اعتراضات کیے ہیں ، پھر آخر میں کہتےہیں،کہ صرف میں نےاور انگریز نے اس کتاب  پراعتراضات نہیں کیے ہیں ،

گذارش یہ ھے کہ امام بخاری پر اعتراضات کرنے والوں کو ہم تین طبقات میں تقسیم کرتے ہیں 

(۱) آئمہ فن کے اعتراضات

(۲) آئمہ معقولات کے اعتراضات

(۳) اھلِ ہواء اورآئمہ ضلالت کے اعتراضات ،،

(1)آئمہ فنِ حدیث کے اس کتاب پر تنقید کا دروازہ پہلے بھی کھلا تھا اور آج بھی کھلا ہے ، اور تاقیامت کھلا رھے گا ، جیساکہ امام دارقطنی وغیرہ نے اس پر اعتراضات کیے تھے ، جن کا تذکرہ آج تک دورہ حدیث کے طلبہ کے سامنے کیاجاتاہے ، اور انکے جوابات شارحینِ حدیث سے اساتذہ کرام نقل کرکے طلبہ کرام کے سامنے رکھ دیتے ہیں ، اس میں برامنانے کی کوئی بات نہیں ہے ، تمام اہلِ سنت کے ہاں جس طرح امام بخاری ومسلم قابلِ قدر ہیں ،اسی طرح ان کے ناقدین بھی قابل ِاحترام ہیں ، وجہ صاف ظاہر ہے کہ انکے اعتراضات اس فن کے دائرے کے اندر ہیں ، جس فن کے اصولوں کے تحت امام بخاری اورامام مسلم وغیرہ اپنی اپنی کتابیں مرتب کی ہیں ، 

 

(2)دوسری قسم کے اعتراضات وہ ہیں جو آئمہ معقولات نے اس کتاب کے احادیث پر وارد کیے ہیں ، ان لوگوں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ درحقیقت ان کی ماؤف عقلیں ان احادیث سے مطمئن نہیں ہوتی ہیں اس لیے وہ پھر ان پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں بطورِ مثال فخرِالدین رازی کی ، اساس التقدیس اور ابوحامد غزالی کی کتابوں فیصل التفرقہ وغیرہ میں اس کے نمونے کو دیکھا جاسکتاھے اور ہمارے دور کے بہت سے بڑے بڑے نام اس فہرست میں شامل کیے جاسکتے ہیں ، مگرہم اس وقت ان سے بلاتعرض کیے گذرتے ہیں ، جن کی کتابوں میں احادیثِ بخاری ومسلم پر تیشہ چلایا گیاھے ، مثلا ان کے ہاں یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ سیدنا موسی نے پتھرکوان کے کپڑے لے جانے پر مارا تھا ، یا سیدنا موسی نے ملک الموت کو مارا تھا ، یاسلیمان علیہ السلام نے اپنے سب بیویوں سے ایک رات میں شب باشی کی تھی ، یا سیدنا ابراھیم نے ،، کذب ،، کا استعمال کیا تھا ، وغیرہ ، مگر ان لوگوں کو اہلِ نظر لوگوں سے واسطہ نہیں پڑا  کہ ایسے بے شمارا اعتراضات تو نصوصِ قرانیہ پر بھی وارد کیے جاسکتے ہیں ، ہم خوفِ تضلیلِ عوام کے خطرے سے وہ اعتراضات وارد نہیں کرتے ہیں ، ہمارا دل الحمد للہ قران وسنت پرسو فی صد مطمئن ہیں ، مگر عرض یہ کرنا چاہ رہے ہیں ، کہ جس قسم کے شبھات سے وہ احادیث کو رد کرتے ہیں ، اسی طرح کہ شبھات سے وہ قران مجید میں آنکھیں بند کرکے گذرتے ہیں ، آپ صرف اسی معترضانہ ذہن کے ساتھ  ” کتب علی نفسہ الرحمہ ” اور "جھنم کی ابدی سزا ” کے درمیان میں تطبیق دینے کی کوشش کریں ، تمھیں اندازہ ہوجائے گا کہ بات کہاں سے کہاں تک پہنچتی ہے؟  اس اشکال اور اس طرح کے دیگر اشکالات کا اجمالی جواب آگےآجائے گاان شاء اللہ تعالی

 

(3)تیسری قسم کے اعتراضات وہ ہیں ، جو اھلِ  ہواء اور آئمہُ ضلالت کی طرف سے ان احادیث پر وارد کیے جاتے ہیں ، ان کے پھر مختلف درجات ہیں ، بعض لوگ اس وجہ سے ان احادیث پر رد کرتے ہیں کہ ان کی اسناد میں فلاں فلاں راوی شیعہ ہیں یا پھر خارجی ہیں ، ان کے نزدیک نام کا شیعہ اور خارجی کا حدیث کی سند میں آنا اس کو ناقابلِ قبول بنانے کےلیے کافی وشافی ہے ، اسی طرح بعض دیگر لوگ ناصبیوں کے مخالف ہیں ، وہ انکے تمام منقولہ روایات کو دریا برد کرنا چاہتے ہیں ، اس طرح بعض دیگر لوگ ہیں جو قران واحادیث میں زبردستی تضاد پیداکرکے احادیث کو رد کرنے کے بہانے ڈھونڈھتے ہیں ، کھبی کہتے ہیں ، احادیث سے قران کی تخصیص نہیں ہوسکتی ، آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ نبی علیہ السلام کی وراثت تقسیم ھوگی یا نہیں؟  اگر وہ کہیں کہ نہیں تو کہیں کہ  قران کی آیت بطورِ عموم موجودھے "یوصیکم اللہ فی اولادکم” اور اگر کہیں کہ ہاں توپھر اس سے سوال کریں کہ پھر تو قران کی تخصیص خبر واحد سے ہوگئی نا ، حالانکہ آپ اس کے مخالف ہیں ؟ یہ صرف ایک مثال پیش کی ہے ، اس موضوع پر تفصیلا لکھنے کا ارادہ ھے وبیدہ التوفیق ،  اسی طرح کبھی قرانی آیت کے الفاظ کو سیاق وسباق سے نکال کر عمومی قاعدہ بناتے ہیں ، پھر اس بنیاد پر احادیث نبوی پر چھری چلاتے ہیں ، جیسے آیت ” لیس للانسان الاماسعی”   کہ اس کو عام بناکر پھر مردوں کے لیے صدقات اور دعاء وغیرہ چیزوں کے نافع ہونے کی نفی کرتے ہیں ، حالانکہ اہلِ نظرعلماء کرام جن میں امام احمدوغیرہ شامل ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ جب احادیث ِرسول قران کے ظاہر کے خلاف وارد ہوجائے توپھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قران کا ظاہروہ ہے جواحادیث میں وارد ھے ، وہ نہیں ہے کہ جو ہمارے ذہنوں میں آتاھے ، خطاب کے مختلف احوال کو دیکھنے کےلیے احباب (الرسالہ للشافعی ،السنہ للمروزی اورالفقیہ والمتفقہ للخطیب کو دیکھ سکتے ہیں) اس گروہِ معترضین میں پاک وھند کے بڑے بڑے نام آتے ہیں ، جن میں بعض کے خلاف ہمارے دوستوں نے کتابیں بھی لکھی ہیں ، کچھ دیگر لوگ ہیں جو احادیث کو اس بناپر رد کرتے ہیں کہ وہ انکے فقہی مذھب کے خلاف ہیں ، اس طبقہ کے محتاط علماء مخالف احادیث کی تاویلات کرتے ہیں ، مگر غیر محتاط علماء ان احادیث کو یکسر رد کردیتے ہیں ، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس طبقے کا بڑاتفصیلی تعارف کرایا ھے ، احباب اعلام الموقعین میں اس مبحث کو دیکھ سکتے ہیں ، ہمارے زمانے میں اس طبقہ میں ایک اورگروہ کا اضافہ ہواھے ، وہ مدّعی توحید حضرات ہیں ، ان لوگ کاخیال یہ ھے کہ جن احادیث سے اھلِ بدعت (انکے بقول مشرکین) کے مذہب کی تائید ھوتی ھے ، وہ احادیث تمام کے تمام مردود ہیں ، یہ سلسلہ ڈاکٹر مسعود عثمانی سے شروع ہوا تھا ، پھر دھیرے دھیرے اشاعت التوحید کے گروہ کے بعض علماء میں بھی سرایت کرگیا، اس طبقہ نے پہلے پہل وہ احادیث جو عذابِ قبر ، وسیلہ بالذوات ، حیات الانبیاء ، وغیرہ کے سلسلے میں وارد تھیں،ان سے جان چھڑائی ، لیکن کچھ عرصہ کے بعد ان کے انکار ِحدیث کا میدان وسیع ہوتا گیا ، اور قران ِمقدس وبخاری محدث ، جیسی کتابیں منظر عام پر آنے لگی ، خلاصہ یہ ہوا کہ پہلے طبقے کا راستہ کھلا ہے ، مگر باقی دوطبقے جو ہیں ان کے مقاصد اگرچہ درست بھی ہوسکتے ہیں مگر بالعموم ان کے مقاصد فاسد ہوتے ہیں ،اس لیے اہل سنت والجماعت ہمیشہ سے ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، انھیں داعیانہ طریقے سے سمجھا تے ہیں ،اورکچھ گروہوں کی تردید بدلائل قاہرہ ظاہرہ کرتے ہیں ، اوپر مذکور شخص جو ھے ، وہ نام امام دارقطنی وغیرہ محدثین کا لیتاھے ، اورسلسلہ آئمہ ضلالت کاچلاتاھے ، اور ان کی علمی استعداد کے لیے ایک لطیفہ ملاحظہ ھو ،کسی محدث کا نام لیا ھے جس کے آخر میں نسبت الشافعی ہے ، وہ اسے ،، الشافعی ،،( بفتح الالف وجزم اللام وفتح الشین المعجمہ من غیرتشدید) پڑھتاہے ، گویا حروف شمسی وقمری کے استعمال سے بھی بے خبر ہیں ،چلے ہے امام بخاری رحمہ اللہ اوران کے الجامع الصحیح پر تنقیدکرنے ، 

غالبِ نکتہ دان سے کیا نسبت 

خاک کو آسمان سے کیانسبت 

 والسلام

مولانا واسل واسطی حفظہ اللہ

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں