لوط علیہ السلام پر شرک کا الزام

اعتراض:4
لوط علیہ السلام پر شرک کا الزام
(جلد دوم ص2276,278,281-روایات 613,600,597 سب ایک مضمون ہے)
ابو ھریرہ رضی اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے وہ ایک مضبوط رکن کی پناہ چاھتے تھے۔( روایت ختم)
تبصرہ: مضبوط رکن
رکن کی پناہ جس کا قرآن میں ذکر ہے ( ھود:11/80) وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ سے پناہ لینے کے زمرے میں نہیں آتی ۔
لوط علیہ السلام نے تأسف کے طور پر مشرکین سے اظہار بیزاری کرتے ہوئے فرمایا کہ جبکہ کوئی بھی موحد ان کا مددگار ساتھی نہ تھا سوائے قلیل کمزوروں کے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے ایک اہلحدیث مولوی کی زبانی لوط علیہ السلام کا شرک سنایا تھا اس اہل حدیث مولوی نے یہ بات بخاری میں ہی پڑھی ہوگی اس نے اس لئے کہا ہوگا کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے مغفرت کی دعا فرما رہے ہیں جبکہ شرکیہ جرائم کی مغفرت کی دعا کرنے کی تو اسلام اجازت ہی نہیں دیتا۔
الجواب:
یہ روایت صحیح بخاری میں چھ مقامات پرہے.(3372,3375,3387,4537,4694,6992)
صحیح بخاری کے علاوہ یہ حدیث درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
صحیح مسلم (151وبعد2370 )سنن الترمذی (3116وقال ھذا حدیث حسن) صحیح ابنِ حبان (6174دوسرا نسخہ 6207) (سنن ابن ماجه: 4026 )،(مشكل الاثار للطحاوي :١/١٣٤-١٣٦) ،(صحيح أبي عوانة:١/٧٩,٨٠) ،(المستخرج لأبي نعيم :١/٢١٥ح ٣٨٠) ،(تفسير طبري : 12 / 88, 139 )٫(المستدرک ق للحاکم:2/561ح4054 وقال: صحیح علی شرط مسلم،ووافقہ الذھبی) ،(النسائی فی الکبری:11254)٫(الایمان لابن مندہ 1/487,ح371,1, 1/485ح368,329) ،(الادب المفرد للبخاری:605,896) ,( تفسیر بغوی:2/395,396), شرح السنہ لہ :1/114 ,115ح63 وقال البغوی: ھذا حدیث متفق علی صحتہ) ,( تاریخ بغداد : 7/182 ت 3631) ۔
اسے امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے درج ذیل محدثین نے روایت کیا ہے۔
احمد بن حنبل (2/322, 326,332,346,350 (ح8590) ، 384,389,416، 389,416,533 )
اور سعید بن منصور ( سنن سعید بن منصور ح 1097 طبعہ جدید)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کرنے والے درج ذیل ثقہ و جلیل القدر تابعین ہیں :
1. ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن عوف ( صحیح بخاری: 3371 , وصحیحح مسلم: 382 151 بعد ح 2370)
2. سعید بن المسیب ( بخاری 3371 وصحیح مسلم: 151)
3. ابو عبیدہ (صحیح بخاری :3387 وصحیح مسلم:151)
4. بن ہرمز الاعرج ( صحیح بخاری:3375 وصحیح مسلم:151 بعد :ح2370)
اس روایت کے شواہد اور تائیدی روایات کے لیے دیکھئے (تاریخ طبری :1/ 303 بسند حسن و مصنف ابن ابی شیبہ /11 ٫523 525 ح 31826) (والاوسط للطبرانی : 9/375 ح 8808) ,( المستدرک للحاکم:2/563ح 4059)
معلوم ہوا کہ یہ روایت بالکل صحیح ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کی پیدائش سے پہلے یہ حدیث دنیا میں صحیح سند سے موجود تھی۔و الحمدللہ
اس کی تائید قرآن کریم میں ہے کہ لوط علیہ السلام نے فرمایا :
” قال لو ان لي بكم قوه او اوي الى ركن شديد ” کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقتور سہارے کی پناہ لے سکتا( سورہ ھود: 80 تدبر قرآن 4/133,134)
تنبیہ بلیغ : تدبر قرآن کا مصنف امین احسن اصلاحی منکرین حدیث میں سے تھا لہذا اس کا ترجمہ ان منکرین حدیث پر حجت قاطعہ ہے۔
پرویز نے "رکن "کا ترجمہ سہارا کیا ہے (دیکھئے لغات القرآن: /2 780)
مشہور تابعی اور مفسر قرآن امام قتادہ رحمہ اللہ نے رکن شدید کی تشریح” العشیرة "خاندان سے کی ہے( تفسیر طبری: 21 /52 53 سندہ صحیح)
مضبوط قبیلے والوں کی حمایت و مدد مانگنا شرک نہیں ہے بلکہ یہ استمداد ماتحت الاسباب ہے.
سیدنا عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ” من انصاری الی اللہ” کون میرا مددگارہے اللہ کی راہ میں؟ ( سورۃ الصف: 14)
ما تحت الاسباب مدد مانگنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا شرک نہیں ہوتا . شرك تو یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفات خاصہ میں کسی کو شریک کیا جائے یا اموات سے مافوق الاسباب مدد مانگی جائے لہذا منکرین حدیث کی طرف سے سیدنا لوط علیہ السلام پر شرک کا الزام باطل و مردود ہے. الحمدلله
(صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ :37)

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں