صحیح بخاریکتاب العمل فی الصلاۃ

صحیح بخاری جلد دؤم : كتاب العمل في الصلاة ( نماز کے کام کے بارے میں) : حدیث:-1217

كتاب العمل في الصلاة
کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

Chapter No: 15

باب لاَ يَرُدُّ السَّلاَمَ فِي الصَّلاَةِ

One should not return greetings during the Salat

باب : نماز میں سلام کا جواب (زبان سے) نہ دے.


[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  

حدیث نمبر:1217         

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ لَهُ فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ عَلَىَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الأُولَى، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَىَّ فَقَالَ ‏”‏ إِنَّمَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ‏”‏‏.‏ وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ‏‏‏‏‏‏‏.

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    

1217 ـ حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا كثير بن شنظير، عن عطاء بن أبي رباح، عن جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة له فانطلقت، ثم رجعت وقد قضيتها، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه، فلم يرد على، فوقع في قلبي ما الله أعلم به فقلت في نفسي لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد على أني أبطأت عليه، ثم سلمت عليه فلم يرد على، فوقع في قلبي أشد من المرة الأولى، ثم سلمت عليه فرد على فقال ‏”‏ إنما منعني أن أرد عليك أني كنت أصلي ‏”‏‏.‏ وكان على راحلته متوجها إلى غير القبلة‏.‏

حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:  

1217 ـ حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا کثیر بن شنظیر، عن عطاء بن ابی رباح، عن جابر بن عبد اللہ ـ رضى اللہ عنہما ـ قال بعثنی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فی حاجۃ لہ فانطلقت، ثم رجعت وقد قضیتہا، فاتیت النبی صلى اللہ علیہ وسلم فسلمت علیہ، فلم یرد على، فوقع فی قلبی ما اللہ اعلم بہ فقلت فی نفسی لعل رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم وجد على انی ابطات علیہ، ثم سلمت علیہ فلم یرد على، فوقع فی قلبی اشد من المرۃ الاولى، ثم سلمت علیہ فرد على فقال ‏”‏ انما منعنی ان ارد علیک انی کنت اصلی ‏”‏‏.‏ وکان على راحلتہ متوجہا الى غیر القبلۃ‏.‏

‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:  

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے (غزوۂ بنی مصطلق میں) مجھ کو ایک کام کیلئے بھیجا، میں گیا اور کام پورا کر کے لوٹا ، پھر نبی ﷺ کے پاس آیا ، آپﷺکو سلام کیا آپﷺ نے جواب نہیں دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی میں نے اپنےدل میں کہا شاید میں دیر سے آیا اس وجہ سے رسول اللہﷺ مجھ پر خفا ہیں۔ پھر میں نے آپﷺ کو سلام کیا ، آپﷺ نے جواب نہ دیا، اب تو میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ خیال آیا، پھر میں نے (تیسری بار) سلام کیا، تو آپﷺ نے جواب دیا اور فرمایا :پہلے (دو بار) جو میں نے جواب نہ دیا تو اس وجہ سے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور آپﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، اس کا منہ قبلے کے دوسری طرف تھا۔


حدیث کی اردو تشریح:   

تشریح : مسلم کی روایت میں ہے کہ یہ غزوہ بنی المصطلق میں تھا۔ اور مسلم ہی کی روایت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ آپ نے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا اور جابر رضی اللہ عنہ کا مفہوم ومتفکر ہونا اس لیے تھا کہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ یہ اشارہ سلام کا جواب ہے۔ کیونکہ پہلے زبان سے سلام کا جواب دیتے تھے نہ کہ اشارہ سے۔

English Translation: 

Narrated By Jabir bin ‘Abdullah : Allah’s Apostle sent me for some job and when I had finished it I returned and came to the Prophet and greeted him but he did not return my greeting. So I felt so sorry that only Allah knows it and I said to myself,, ‘Perhaps Allah’s Apostle is angry because I did not come quickly, then again I greeted him but he did not reply. I felt even more sorry than I did the first time. Again I greeted him and he returned the greeting and said, "The thing which prevented me from returning the greeting was that I was praying.” And at that time he was on his Rahila and his face was not towards the Qibla.

Related Articles

Back to top button
Close