صحیح بخاری – حدیث نمبر 5279
لونڈی کی بیع سے طلاق نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 5279
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ ؟ قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ: عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.
حدیث کی عربی عبارت (بغیر اعراب)
حدیث نمبر: 5279
حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن القاسم بن محمد، عنعائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: كان في بريرة ثلاث سنن، إحدى السنن أنها أعتقت، فخيرت في زوجها، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الولاء لمن أعتق، ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم والبرمة تفور بلحم، فقرب إليه خبز وأدم من أدم البيت، فقال: ألم أر البرمة فيها لحم ؟ قالوا: بلى، ولكن ذلك لحم تصدق به على بريرة، وأنت لا تأكل الصدقة، قال: عليها صدقة ولنا هدية.
حدیث کی عربی عبارت (مکمل اردو حروف تہجی میں)
حدیث نمبر: 5279
حدثنا اسماعیل بن عبد اللہ، قال: حدثنی مالک، عن ربیعۃ بن ابی عبد الرحمن، عن القاسم بن محمد، عنعائشۃ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلى اللہ علیہ وسلم، قالت: کان فی بریرۃ ثلاث سنن، احدى السنن انہا اعتقت، فخیرت فی زوجہا، وقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: الولاء لمن اعتق، ودخل رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم والبرمۃ تفور بلحم، فقرب الیہ خبز وادم من ادم البیت، فقال: الم ار البرمۃ فیہا لحم ؟ قالوا: بلى، ولکن ذلک لحم تصدق بہ على بریرۃ، وانت لا تاکل الصدقۃ، قال: علیہا صدقۃ ولنا ہدیۃ.
حدیث کا اردو ترجمہ
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ بریرہ (رض) سے دین کے تین مسئلے معلوم ہوگئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہوجائیں) اور رسول اللہ ﷺ نے (انہیں کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم ﷺ کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے ؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
حدیث کا انگریزی ترجمہ (English Translation)
Narrated Aisha (RA) :
(the wife of the Prophet) Three traditions were established concerning situations in which Barra was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allahs Apostle ﷺ said, "The wala is for the one who manumits, Once Allahs Apostle ﷺ entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, "Dont I see the pot containing meat?” They said, "Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity.”The Prophet ﷺ said "That meat is alms for her, but for us it is a present.”