صحیح بخاری جلد دؤم : کتاب الجنائز( جنازے کے احکام و مسائل) : حدیث:-1285

کتاب الجنائز
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

Chapter No: 32

باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ‏”‏ إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ‏

The statement of the Prophet (s.a.w), "The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custom of that dead person.”

باب: نبی ﷺ کا یہ فرماناکہ میّت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا پیٹنا میّت کے خاندان کی رسم ہو۔


[quote arrow=”yes” "]

1: حدیث اعراب کے ساتھ:[sta_anchor id=”top”]

2: حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

3: حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:

4: حدیث کا اردو ترجمہ:

5: حدیث کی اردو تشریح:

English Translation :6 

[/quote]

حدیث اعراب کے ساتھ:  [sta_anchor id=”artash”]

حدیث نمبر:1285         

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ شَهِدْنَا بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ ـ قَالَ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ قَالَ ـ فَقَالَ ‏”‏ هَلْ مِنْكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ ‏”‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَانْزِلْ ‏”‏‏.‏ قَالَ فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا‏‏‏‏‏‏‏.‏

.حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:    [sta_anchor id=”arnotash”]

1285 ـ حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا أبو عامر، حدثنا فليح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ قال شهدنا بنتا لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس على القبر ـ قال فرأيت عينيه تدمعان قال ـ فقال ‏”‏ هل منكم رجل لم يقارف الليلة ‏”‏‏.‏ فقال أبو طلحة أنا‏.‏ قال ‏”‏ فانزل ‏”‏‏.‏ قال فنزل في قبرها‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
1285 ـ حدثنا عبد اللہ بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا فلیح بن سلیمان، عن ہلال بن علی، عن انس بن مالک ـ رضى اللہ عنہ ـ قال شہدنا بنتا لرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال ورسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جالس على القبر ـ قال فرایت عینیہ تدمعان قال ـ فقال ‏”‏ ہل منکم رجل لم یقارف اللیلۃ ‏”‏‏.‏ فقال ابو طلحۃ انا‏.‏ قال ‏”‏ فانزل ‏”‏‏.‏ قال فنزل فی قبرہا‏.‏
‏‏‏‏‏‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ انہوں نے کہا: ہم نبیﷺ کی ایک صاحبزادی (اُم کلثوم رضی اللہ عنہا) کے جنازے میں حاضر تھے ،آپﷺ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے،میں نے دیکھا آپﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا لوگو! تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حاضر ہوں۔آپﷺنے فرمایا: تو پھر اُتر جاؤ۔ وہ اُن کی قبر میں اُترے۔


حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں اتارا۔ ایسا کرنے سے ان کو تنبیہ کرنا منظور تھی۔ کہتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شب میں جس میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہانے انتقال فرمایا ایک لونڈی سے صحبت کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا یہ کام پسند نہ آیا ( وحیدی )
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں۔ ان کے انتقال پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے آپ کا عقد فرما دیا جن کے انتقال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو اسے بھی عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے عقد میں دیتا۔ اس سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جو وقعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تھی وہ ظاہر ہے۔

 English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 
Narrated By Anas bin Malik : We were (in the funeral procession) of one of the daughters of the Prophet and he was sitting by the side of the grave. I saw his eyes shedding tears. He said, "Is there anyone among you who did not have sexual relations with his wife last night?” Abu Talha replied in the affirmative. And so the Prophet told him to get down in the grave. And so he got down in her grave.

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں