Search

صحیح بخاری جلد اول : كتاب الوضوء (وضو کا بیان) : حدیث 144

كتاب الوضوء
کتاب: وضو کے بیان میں
(THE BOOK OF WUDU (ABLUTION
11- بَابُ لاَ تُسْتَقْبَلُ الْقِبْلَةُ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ إِلاَّ عِنْدَ الْبِنَاءِ جِدَارٍ أَوْ نَحْوِهِ:
باب: اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں۔

[quote arrow=”yes”]

حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِل الْقِبْلَةَ وَلَا يُوَلِّهَا ظَهْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا”.
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
144 ـ حدثنا آدم، قال حدثنا ابن أبي ذئب، قال حدثنا الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن أبي أيوب الأنصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة ولا يولها ظهره، شرقوا أو غربوا ‏”‏‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
144 ـ حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابی ذیب، قال حدثنا الزہری، عن عطاء بن یزید اللیثی، عن ابی ایوب الانصاری، قال قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ‏”‏ اذا اتى احدکم الغایط فلا یستقبل القبلۃ ولا یولہا ظہرہ، شرقوا او غربوا ‏”‏‏.‏

ا اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے، کہا کہ ہم سے زہری نے عطاء بن یزید اللیثی کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرے نہ اس کی طرف پشت کرے(بلکہ) مشرق کی طرف منہ کر لو یا مغرب کی طرف۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : یہ حکم مدینہ والوں کے لیے خاص ہے۔ کیونکہ مدینہ مکہ سے شمال کی طرف واقع ہے۔ اس لیے آپ نے قضاءحاجت کے وقت پچھم یا پورب کی طرف منہ کرنے کا حکم فرمایا۔ یہ بیت اللہ کا ادب ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیث کے عنوان سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ اگرکوئی آڑ سامنے ہو تو قبلہ کی طرف منہ یا پشت کر سکتا ہے۔ آپ نے جو حدیث اس باب میں ذکر کی ہے وہ ترجمہ باب کے مطابق نہیں ہوتی کیونکہ حدیث سے مطلق ممانعت نکلتی ہے اور ترجمہ باب میں عمارت کو مستثنیٰ کیا ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ آپ نے یہ حدیث محض ممانعت ثابت کرنے کے لیے ذکر کی ہے اور عمارت کا استثناءآگے والی حدیث سے نکالا ہے جو ابن عمر سے مروی ہے۔ بعضوں نے لفظ غائط سے صرف میدان مراد لیا ہے اور اس ممانعت سے سمجھا گیا کہ عمارت میں ایسا کرنا درست ہے۔
حضرت مولانا شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ مبارک پوری نے اس بارے میں دلائل طرفین پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے اپنا آخری فیصلہ یہ دیا ہے وعندی الاحتراز عن الاستقبال والاستدبار فی البیوت احوط وجوبا لاندبا یعنی میرے نزدیک بھی وجوباً احتیاط کا تقاضا ہے کہ گھروں میں بھی بیت اللہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے پرہیز کیاجائے۔ ( مرعاۃ،جلداول، ص: 241 ) علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ صاحب تحفۃ الاحوذی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Abu Aiyub Al-Ansari: Allah’s Apostle said, "If anyone of you goes to an open space for answering the call of nature he should neither face nor turn his back towards the Qibla; he should either face the east or the west.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں