Search

صحیح بخاری جلد اول : كتاب الوضوء (وضو کا بیان) : حدیث 185

كتاب الوضوء
کتاب: وضو کے بیان میں
(THE BOOK OF WUDU (ABLUTION
 
38- بَابُ مَسْحِ الرَّأْسِ كُلِّهِ:
باب: اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا ضروری ہے۔

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ ‏‏‏‏وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ‏‏‏‏. وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَرْأَةُ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ تَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا. وَسُئِلَ مَالِكٌ أَيُجْزِئُ أَنْ يَمْسَحَ بَعْضَ الرَّأْسِ فَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ.
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے سروں کا مسح کرو۔ اور ابن مسیب نے کہا ہے کہ سر کا مسح کرنے میں عورت مرد کی طرح ہے۔ وہ (بھی) اپنے سر کا مسح کرے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا کچھ حصہ سر کا مسح کرنا کافی ہے؟ تو انہوں نے دلیل میں عبداللہ بن زید کی (یہ) حدیث پیش کی، یعنی پورے سر کا مسح کرنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى:‏‏‏‏ أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏”فَدَعَا بِمَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَهُ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ”.
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
185 ـ حدثنا عبد اللہ بن یوسف، قال اخبرنا مالک، عن عمرو بن یحیى المازنی، عن ابیہ، ان رجلا، قال لعبد اللہ بن زید ـ وہو جد عمرو بن یحیى ـ اتستطیع ان ترینی، کیف کان رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یتوضا فقال عبد اللہ بن زید نعم‏.‏ فدعا بماء، فافرغ على یدیہ فغسل یدہ مرتین، ثم مضمض واستنثر ثلاثا، ثم غسل وجہہ ثلاثا، ثم غسل یدیہ مرتین مرتین الى المرفقین، ثم مسح راسہ بیدیہ، فاقبل بہما وادبر، بدا بمقدم راسہ، حتى ذہب بہما الى قفاہ، ثم ردہما الى المکان الذی بدا منہ، ثم غسل رجلیہ‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
185 ـ حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه، أن رجلا، قال لعبد الله بن زيد ـ وهو جد عمرو بن يحيى ـ أتستطيع أن تريني، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ فقال عبد الله بن زيد نعم‏.‏ فدعا بماء، فأفرغ على يديه فغسل يده مرتين، ثم مضمض واستنثر ثلاثا، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يديه مرتين مرتين إلى المرفقين، ثم مسح رأسه بيديه، فأقبل بهما وأدبر، بدأ بمقدم رأسه، حتى ذهب بهما إلى قفاه، ثم ردهما إلى المكان الذي بدأ منه، ثم غسل رجليه‏.‏
ا اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں، سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں! پھر انہوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے۔ پھر تین مرتبہ کلی کی، تین بار ناک صاف کی، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طور پر اپنے ہاتھ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے۔ (مسح) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے (مسح) شروع کیا تھا، پھر اپنے پیر دھوئے۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ پورے سرکا مسح کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے اپنے ارشاد ( المائدۃ: 66 ) میں کوئی حد مقرر نہیں کی کہ آدھے سر یاچوتھائی سر کا مسح کرو۔ جیسے ہاتھوں میں کہنیوں تک اور پیروں میں ٹخنوں تک کی قید موجود ہے تومعلوم ہوا کہ سارے سر کا مسح فرض ہے جب سر پر عمامہ نہ ہو اور اگرعمامہ ہو تو پیشانی سے مسح شروع کرکے عمامہ پر ہاتھ پھیر لینا کافی ہے۔ عمامہ اتارنا ضروری نہیں۔ حدیث کی رو سے یہی مسلک صحیح ہے۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Yahya Al-Mazini: A person asked `Abdullah bin Zaid who was the grandfather of `Amr bin Yahya, "Can you show me how Allah’s Apostle used to perform ablution?” `Abdullah bin Zaid replied in the affirmative and asked for water. He poured it on his hands and washed them twice, then he rinsed his mouth thrice and washed his nose with water thrice by putting water in it and blowing it out. He washed his face thrice and after that he washed his forearms up to the elbows twice and then passed his wet hands over his head from its front to its back and vice versa (beginning from the front and taking them to the back of his head up to the nape of the neck and then brought them to the front again from where he had started) and washed his feet (up to the ankles).

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں