Search

صحیح بخاری جلد اول :كتاب الصلاة (نماز کا بیان) : حدیث357

كتاب الصلاة
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
.(THE BOOK OF AS-SALAT (THE PRAYER
4- بَابُ الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ مُلْتَحِفًا بِهِ:
باب: اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَأُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ "ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانَ ابْنَ هُبَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ:‏‏‏‏ وَذَاكَ ضُحًى”. 
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
357 ـ حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، قال حدثني مالك بن أنس، عن أبي النضر، مولى عمر بن عبيد الله أن أبا مرة، مولى أم هانئ بنت أبي طالب أخبره أنه، سمع أم هانئ بنت أبي طالب، تقول ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح، فوجدته يغتسل، وفاطمة ابنته تستره قالت فسلمت عليه فقال ‏”‏ من هذه ‏”‏‏.‏ فقلت أنا أم هانئ بنت أبي طالب‏.‏ فقال ‏”‏ مرحبا بأم هانئ ‏”‏‏.‏ فلما فرغ من غسله، قام فصلى ثماني ركعات، ملتحفا في ثوب واحد، فلما انصرف قلت يا رسول الله، زعم ابن أمي أنه قاتل رجلا قد أجرته فلان بن هبيرة‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏”‏ قد أجرنا من أجرت يا أم هانئ ‏”‏‏.‏ قالت أم هانئ وذاك ضحى‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
357 ـ حدثنا اسماعیل بن ابی اویس، قال حدثنی مالک بن انس، عن ابی النضر، مولى عمر بن عبید اللہ ان ابا مرۃ، مولى ام ہانی بنت ابی طالب اخبرہ انہ، سمع ام ہانی بنت ابی طالب، تقول ذہبت الى رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عام الفتح، فوجدتہ یغتسل، وفاطمۃ ابنتہ تسترہ قالت فسلمت علیہ فقال ‏”‏ من ہذہ ‏”‏‏.‏ فقلت انا ام ہانی بنت ابی طالب‏.‏ فقال ‏”‏ مرحبا بام ہانی ‏”‏‏.‏ فلما فرغ من غسلہ، قام فصلى ثمانی رکعات، ملتحفا فی ثوب واحد، فلما انصرف قلت یا رسول اللہ، زعم ابن امی انہ قاتل رجلا قد اجرتہ فلان بن ہبیرۃ‏.‏ فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ‏”‏ قد اجرنا من اجرت یا ام ہانی ‏”‏‏.‏ قالت ام ہانی وذاک ضحى‏.‏
ا اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک بن انس نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن امیہ سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ یزید نے بیان کیا کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے یہ سنا۔ وہ فرماتی تھیں کہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی آئی ہو، ام ہانی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے سے فارغ ہو گئے تو اٹھے اور آٹھ رکعت نماز پڑھی، ایک ہی کپڑے میں لپٹ کر۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے (علی بن ابی طالب) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک شخص کو ضرور قتل کرے گا۔ حالانکہ میں نے اسے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ (میرے خاوند) ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے پناہ دے دی، ہم نے بھی اسے پناہ دی۔ ام ہانی نے کہا کہ یہ نماز چاشت تھی۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]
تشریح : حضرت علی رضی اللہ عنہ ام ہانی کے سگے بھائی تھے۔ ایک باپ ایک ماں۔ ان کو ماں کا بیٹا اس لیے کہا کہ مادری بھائی بہن ایک دوسرے پر بہت مہربان ہوتے ہیں۔ گویا ام ہانی یہ ظاہر کررہی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے سگے بھائی ہونے کے باوجود مجھ پر مہربانی نہیں کرتے۔ ہبیرہ کا بیٹا جعدہ نامی تھا جو ابھی بہت چھوٹا تھا۔ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ مارنے کا ارادہ کیوں کرتے۔ ابن ہشام نے کہا ام ہانی نے حارث بن ہشام اور زہیربن ابی امیہ یاعبداللہ بن ربیعہ کو پناہ دی تھی۔ یہ لوگ ہبیرہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ شاید فلاں بن ہبیرہ میں راوی کو بھول سے عم کا لفظ چھوٹ گیا ہے یعنی دراصل فلاں بن عم ہبیرہ ہے۔
ہبیرہ بن ابی وہب بن عمرو مخزومی ام ہانی بنت ابی طالب کے خاوند ہیں جن کی اولاد میں ایک بچے کا نام ہانی بھی ہے جن کی کنیت سے اس خاتون کو ام ہانی سے پکارا گیا۔ ہبیرہ حالت شرک ہی میں مرگئے۔ ان کا ایک بچہ جعدہ نامی بھی تھا جو ام ہانی ہی کے بطن سے ہے جن کا اوپر ذکر ہوا، فتح مکہ کے دن ام ہانی نے ان ہی کو پناہ دی تھی۔ ان کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پناہ کو قبول فرمایا، آپ اس وقت چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ بعض کے نزدیک یہ فتح مکہ پر شکریہ کی نماز تھی۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Abu Murra: (the freed slave of Um Hani) Um Hani, the daughter of Abi Talib said, "I went to Allah’s Apostle in the year of the conquest of Mecca and found him taking a bath and his daughter Fatima was screening him. I greeted him. He asked, ‘Who is she?’ I replied, ‘I am Um Hani bint Abi Talib.’ He said, ‘Welcome! O Um Hani.’ When he finished his bath he stood up and prayed eight rak`at while wearing a single garment wrapped round his body and when he finished I said, ‘O Allah’s Apostle ! My brother has told me that he will kill a person whom I gave shelter and that person is so and so the son of Hubaira.’ The Prophet said, ‘We shelter the person whom you have sheltered.’ ” Um Hani added, "And that was before noon (Duha).

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں