Search

صحیح بخاری جلد اول : كتاب الإيمان (ایمان کا بیان) : حدیث 39

كتاب الإيمان
کتاب: ایمان کے بیان میں
.(THE BOOK OF BELIEF (FAITH
 
29- بَابُ الدِّينُ يُسْرٌ:
باب: اس بیان میں کہ دین آسان ہے۔
وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ «أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ».
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ وہ دین پسند ہے جو سیدھا اور سچا ہو۔ (اور یقیناً وہ دین اسلام ہے سچ ہے «إن الدين عند الله الإسلام»)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ”.

حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 

39 ـ حدثنا عبد السلام بن مطہر، قال حدثنا عمر بن علی، عن معن بن محمد الغفاری، عن سعید بن ابی سعید المقبری، عن ابی ہریرۃ، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال ‏”‏ ان الدین یسر، ولن یشاد الدین احد الا غلبہ، فسددوا وقاربوا وابشروا، واستعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشىء من الدلجۃ ‏”‏‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
39 ـ حدثنا عبد السلام بن مطهر، قال حدثنا عمر بن علي، عن معن بن محمد الغفاري، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ إن الدين يسر، ولن يشاد الدين أحد إلا غلبه، فسددوا وقاربوا وأبشروا، واستعينوا بالغدوة والروحة وشىء من الدلجة ‏”‏‏.‏

حدیث کا اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عمر بن علی نے معن بن محمد غفاری سے خبر دی، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے، وہ ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اس کی سختی نہ چل سکے گی) پس (اس لیے) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔ (نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو۔)

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریحسورۃ حج میں اللہ پاک نے فرمایا ہے ماجعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم ( الحج: 78 ) یعنی اللہ نے دنیا میں تم پر کوئی سختی نہیں رکھی بلکہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) کی ملت ہے۔ آیات اور احادیث سے روز روشن کی  طرح واضح ہے کہ اسلام ہر طرح سے آسان ہے۔ اس کے اصولی اور فروعی احکام اور جس قدر اوامر و نواہی ہیں سب میں اسی حقیقت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے مگرصد افسوس کہ بعد کے زمانوں میں خودساختہ ایجادات سے اسلام کو اس قدر مشکل بنالیا گیا ہے کہ خدا کی پناہ۔ اللہ نیک سمجھ دے۔ آمین۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Religion is very easy and whoever overburdens himself in his religion will not be able to continue in that way. So you should not be extremists, but try to be near to perfection and receive the good tidings that you will be rewarded; and gain strength by worshipping in the mornings, the nights.” (See Fath-ul-Bari, Page 102, Vol 1).

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں