صحیح بخاری جلد اول :مواقیت الصلوات (اوقات نماز کا بیان) : حدیث:-525

كتاب مواقيت الصلاة
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
THE BOOK OF THE TIMES OF AS-SALAT (THE PRAYERS) AND ITS SUPERIORITY.
4- بَابُ الصَّلاَةُ كَفَّارَةٌ:
باب: اس بیان میں کہ گناہوں کے لیے نماز کفارہ ہے (یعنی اس سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں)۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : ” كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ؟ قُلْتُ : أَنَا كَمَا قَالَهُ ، قَالَ : إِنَّكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهَا لَجَرِيءٌ ، قُلْتُ : فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ ، تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ وَالنَّهْيُ ، قَالَ : لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ ، وَلَكِنْ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ ، قَالَ : لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ ؟ قَالَ : يُكْسَرُ ، قَالَ : إِذًا لَا يُغْلَقَ أَبَدًا ، قُلْنَا : أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ ” ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ ، فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : الْبَابُ عُمَرُ .
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
525 ـ حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن الأعمش، قال حدثني شقيق، قال سمعت حذيفة، قال كنا جلوسا عند عمر ـ رضى الله عنه ـ فقال أيكم يحفظ قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة قلت أنا، كما قاله‏.‏ قال إنك عليه ـ أو عليها ـ لجريء‏.‏ قلت ‏”‏ فتنة الرجل في أهله وماله وولده وجاره تكفرها الصلاة والصوم والصدقة والأمر والنهى ‏”‏‏.‏ قال ليس هذا أريد، ولكن الفتنة التي تموج كما يموج البحر‏.‏ قال ليس عليك منها بأس يا أمير المؤمنين، إن بينك وبينها بابا مغلقا‏.‏ قال أيكسر أم يفتح قال يكسر‏.‏ قال إذا لا يغلق أبدا‏.‏ قلنا أكان عمر يعلم الباب قال نعم، كما أن دون الغد الليلة، إني حدثته بحديث ليس بالأغاليط‏.‏ فهبنا أن نسأل حذيفة، فأمرنا مسروقا فسأله فقال الباب عمر‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
525 ـ حدثنا مسدد، قال حدثنا یحیى، عن الاعمش، قال حدثنی شقیق، قال سمعت حذیفۃ، قال کنا جلوسا عند عمر ـ رضى اللہ عنہ ـ فقال ایکم یحفظ قول رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فی الفتنۃ قلت انا، کما قالہ‏.‏ قال انک علیہ ـ او علیہا ـ لجریء‏.‏ قلت ‏”‏ فتنۃ الرجل فی اہلہ ومالہ وولدہ وجارہ تکفرہا الصلاۃ والصوم والصدقۃ والامر والنہى ‏”‏‏.‏ قال لیس ہذا ارید، ولکن الفتنۃ التی تموج کما یموج البحر‏.‏ قال لیس علیک منہا باس یا امیر المومنین، ان بینک وبینہا بابا مغلقا‏.‏ قال ایکسر ام یفتح قال یکسر‏.‏ قال اذا لا یغلق ابدا‏.‏ قلنا اکان عمر یعلم الباب قال نعم، کما ان دون الغد اللیلۃ، انی حدثتہ بحدیث لیس بالاغالیط‏.‏ فہبنا ان نسال حذیفۃ، فامرنا مسروقا فسالہ فقال الباب عمر‏.‏
‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش کی روایت سے بیان کیا، اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا کہ مجھ سے شقیق بن مسلمہ نے بیان کیا، شقیق نے کہا کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا، میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے، کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بےباک تھے۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے۔ آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔ ہمیں اس کے متعلق حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا (کہ دروازہ سے کیا مراد ہے)اس لیے ہم نے مسروق سے کہا (کہ وہ پوچھیں) انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : یہاں جس فتنہ کا ذکر ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہی سے شروع ہوگیاتھا۔ جس کا نتیجہ شیعہ سنی کی شکل میں آج تک موجودہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ بنددروازہ توڑدیا جائے گا۔ ایک مرتبہ فتنے شروع ہونے پر پھر بڑھتے ہی جائیں گے۔ چنانچہ امت کا افتراق محتاج تفصیل نہیں اور فقہی اختلافات نے توبالکل ہی بیڑا غرق کردیاہے۔ یہ سب کچھ تقلید جامد کے نتائج ہیں۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Shaqiq: that he had heard Hudhaifa saying, "Once I was sitting with `Umar and he said, ‘Who amongst you remembers the statement of Allah’s Apostle about the afflictions?’ I said, ‘I know it as the Prophet had said it.’ `Umar said, ‘No doubt you are bold.’ I said, ‘The afflictions caused for a man by his wife, money, children and neighbor are expiated by his prayers, fasting, charity and by enjoining (what is good) and forbidding (what is evil).’ `Umar said, ‘I did not mean that but I asked about that affliction which will spread like the waves of the sea.’ I (Hudhaifa) said, ‘O leader of the faithful believers! You need not be afraid of it as there is a closed door between you and it.’ `Umar asked, Will the door be broken or opened?’ I replied, ‘It will be broken.’ `Umar said, ‘Then it will never be closed again.’ I was asked whether `Umar knew that door. I replied that he knew it as one knows that there will be night before the tomorrow morning. I narrated a Hadith that was free from any misstatement” The subnarrator added that they deputized Masruq to ask Hudhaifa (about the door). Hudhaifa said, "The door was `Umar himself.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں