Search

صحیح بخاری جلد اول :مواقیت الصلوات (اوقات نماز کا بیان) : حدیث:-557

كتاب مواقيت الصلاة
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
THE BOOK OF THE TIMES OF AS-SALAT (THE PRAYERS) AND ITS SUPERIORITY.
17- بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ الْغُرُوبِ:
باب: جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہو گئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ” إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ ، أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِينَا قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ : أَيْ رَبَّنَا أَعْطَيْتَ هَؤُلَاءِ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ وَأَعْطَيْتَنَا قِيرَاطًا قِيرَاطًا وَنَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا ؟ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَهُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ” .
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
557 ـ حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني إبراهيم، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه، أنه أخبره أنه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏”‏ إنما بقاؤكم فيما سلف قبلكم من الأمم كما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس، أوتي أهل التوراة التوراة فعملوا حتى إذا انتصف النهار عجزوا، فأعطوا قيراطا قيراطا، ثم أوتي أهل الإنجيل الإنجيل فعملوا إلى صلاة العصر، ثم عجزوا، فأعطوا قيراطا قيراطا، ثم أوتينا القرآن فعملنا إلى غروب الشمس، فأعطينا قيراطين قيراطين، فقال أهل الكتابين أى ربنا أعطيت هؤلاء قيراطين قيراطين، وأعطيتنا قيراطا قيراطا، ونحن كنا أكثر عملا، قال قال الله عز وجل هل ظلمتكم من أجركم من شىء قالوا لا، قال فهو فضلي أوتيه من أشاء ‏”‏‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
557 ـ حدثنا عبد العزیز بن عبد اللہ، قال حدثنی ابراہیم، عن ابن شہاب، عن سالم بن عبد اللہ، عن ابیہ، انہ اخبرہ انہ، سمع رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول ‏”‏ انما بقاوکم فیما سلف قبلکم من الامم کما بین صلاۃ العصر الى غروب الشمس، اوتی اہل التوراۃ التوراۃ فعملوا حتى اذا انتصف النہار عجزوا، فاعطوا قیراطا قیراطا، ثم اوتی اہل الانجیل الانجیل فعملوا الى صلاۃ العصر، ثم عجزوا، فاعطوا قیراطا قیراطا، ثم اوتینا القران فعملنا الى غروب الشمس، فاعطینا قیراطین قیراطین، فقال اہل الکتابین اى ربنا اعطیت ہولاء قیراطین قیراطین، واعطیتنا قیراطا قیراطا، ونحن کنا اکثر عملا، قال قال اللہ عز وجل ہل ظلمتکم من اجرکم من شىء قالوا لا، قال فہو فضلی اوتیہ من اشاء ‏”‏‏.‏
‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا` آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلہ میں تمہاری زندگی صرف اتنی ہے جتنا عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توراۃ والوں کو توراۃ دی گئی۔ تو انہوں نے اس پر (صبح سے) عمل کیا۔ آدھے دن تک پھر وہ عاجز آ گئے، کام پورا نہ کر سکے، ان لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی، انہوں نے (آدھے دن سے) عصر تک اس پر عمل کیا، اور وہ بھی عاجز آ گئے۔ ان کو بھی ایک ایک قیراط ان کے عمل کا بدلہ دیا گیا۔ پھر (عصر کے وقت) ہم کو قرآن ملا۔ ہم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا (اور کام پورا کر دیا) ہمیں دو دو قیراط ثواب ملا۔ اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! انہیں تو آپ نے دو دو قیراط دئیے اور ہمیں صرف ایک ایک قیراط۔ حالانکہ عمل ہم نے ان سے زیادہ کیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا، تو کیا میں نے اجر دینے میں تم پر کچھ ظلم کیا۔ انہوں نے عرض کی کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ (زیادہ اجر دینا) میرا فضل ہے جسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : اس حدیث سے حنفیہ نے دلیل لی ہے کہ عصر کا وقت دومثل سائے سے شروع ہوتاہے ورنہ جو وقت ظہر سے عصر تک ہے وہ اس وقت سے زیادہ نہیں ٹھہرے گا جو عصر سے غروب آفتاب تک ہے، حالانکہ مخالف کہہ سکتاہے کہ حدیث میں عصرکی نماز سے غروب آفتاب تک کا وقت اس وقت سے کم رکھا گیاہے جو دوپہردن سے عصر کی نماز تک ہے۔ اور اگرایک مثل سایہ پر عصر کی نماز ادا کی جائے جب بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے غروب تک جو وقت ہوگا وہ دوپہر سے تابفراغت از نماز عصر کم ہوگا، کیونکہ نماز کے لیے اذان ہوگی، لوگ جمع ہوں گے، وضو کریں گے، سنتیں پڑھیں گے، اس کے علاوہ حدیث کا یہ مطلب ہوسکتاہے کہ مسلمانوں کا وقت یہود ونصاریٰ کے مجموعی وقت سے کم تھا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں۔ 
اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں لائے اس کی مناسبت بیان کرنا مشکل ہے، حافظ نے کہا اس سے اور اس کے بعد والی حدیث سے یہ نکلتاہے کہ کبھی عمل کے ایک جزو پر پوری مزدوری ملتی ہے اسی طرح جو کوئی فجریاعصر کی ایک رکعت پالے، اس کو بھی اللہ ساری نماز کا وقت پر پڑھنے کا ثواب دے سکتاہے۔ ( اس حدیث میں مسلمانوں کا ذکر بھی ہواہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ) کام توکیا صرف عصر سے مغرب تک، لیکن سارے دن کی مزدوری ملی۔ و جہ یہ کہ انھوں نے شرط پوری کی، شام تک کام کیا، اورکام کو پورا کیا۔ اگلے دو گروہوں نے اپنا نقصان آپ کیا۔ کام کو ادھورا چھوڑکر بھاگ گئے۔ محنت مفت گئی۔ 
یہ مثالیں یہودونصاریٰ اورمسلمانوں کی ہیں۔ یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کومانا اور توراۃ پر چلے لیکن اس کے بعدانجیل مقدس اورقرآن شریف سے منحرف ہوگئے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو انھوں نے نہ مانا۔ اورنصاریٰ نے انجیل اور حضرت عیسیٰ کو مانا لیکن قرآن شریف اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منحرف ہوگئے توان دونوں فرقوں کی محنت برباد ہوگئی۔ آخرت میں جو اجرملنے والا تھا، اس سے محروم رہے۔ آخر زمانہ میں مسلمان آئے اورانھوں نے تھوڑی سی مدت کام کیا۔ مگر کام کو پورا کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی سب کتابوں اورسب نیبوں کو مانا، لہٰذا سارا ثواب ان ہی کے حصہ میں آگیا۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاءواللہ ذوالفضل العظیم ( از حضرت مولانا وحیدالزماں خاں صاحب محدث حیدرآبادی رحمۃ اللہ علیہ ) 
۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Salim bin `Abdullah: My father said, "I heard Allah’s Apostle saying, ‘The period of your stay as compared to the previous nations is like the period equal to the time between the `Asr prayer and sunset. The people of the Torah were given the Torah and they acted (upon it) till midday then they were exhausted and were given one Qirat (of gold) each. And then the people of the Gospel were given the Gospel and they acted (upon it) till the `Asr prayer then they were exhausted and were! given one Qirat each. And then we were given the Qur’an and we acted (upon it) till sunset and we were given two Qirats each. On that the people of both the scriptures said, ‘O our Lord! You have given them two Qirats and given us one Qirat, though we have worked more than they.’ Allah said, ‘Have I usurped some of your right?’ They said, ‘No.’ Allah said: "That is my blessing I bestow upon whomsoever I wish.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں