Search

صحیح بخاری جلد اول :مواقیت الصلوات (اوقات نماز کا بیان) : حدیث:-564

كتاب مواقيت الصلاة
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
THE BOOK OF THE TIMES OF AS-SALAT (THE PRAYERS) AND ITS SUPERIORITY.
20- بَابُ ذِكْرِ الْعِشَاءِ وَالْعَتَمَةِ وَمَنْ رَآهُ وَاسِعًا:
باب: عشاء اور عتمہ کا بیان اور جو یہ دونوں نام لینے میں کوئی ہرج نہیں خیال کرتے۔
  

قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ الْعِشَاءُ وَالْفَجْرُ ، وَقَالَ : لَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالْفَجْرِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَالِاخْتِيَارُ أَنْ يَقُولَ الْعِشَاءُ ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى : وَمِنْ بَعْدِ صَلاةِ الْعِشَاءِ سورة النور آية 58 وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَعْتَمَ بِهَا ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةُ : أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَنْ عَائِشَةَ ، أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ ، وَقَالَ جَابِرٌ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ، وَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ ، وَقَالَ أَنَسٌ : أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ .
‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر کے فرمایا، کہ منافقین پر عشاء اور فجر تمام نمازوں سے زیادہ بھاری ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاش! وہ سمجھ سکتے کہ عتمہ (عشاء) اور فجر کی نمازوں میں کتنا ثواب ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ عشاء کہنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ ارشاد باری ہے «ومن بعد صلاة العشاء‏» (میں قرآن نے اس کا نام عشاء رکھ دیا ہے) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عشاء کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں پڑھنے کے لیے باری مقرر کر لی تھی۔ ایک مرتبہ آپ نے اسے رات گئے پڑھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء دیر سے پڑھی۔ بعض نے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عتمه» کو دیر سے پڑھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  عشاء پڑھتے تھے۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء میں دیر کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشاء کو دیر میں پڑھتے تھے۔ ابن عمر، ابوایوب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ سَالِمٌ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : ” أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ، فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ ” .
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
564 ـ حدثنا عبدان، قال أخبرنا عبد الله، قال أخبرنا يونس، عن الزهري، قال سالم أخبرني عبد الله، قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة صلاة العشاء ـ وهى التي يدعو الناس العتمة ـ ثم انصرف فأقبل علينا فقال ‏”‏ أرأيتم ليلتكم هذه فإن رأس مائة سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الأرض أحد ‏”‏‏.‏
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
564 ـ حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد اللہ، قال اخبرنا یونس، عن الزہری، قال سالم اخبرنی عبد اللہ، قال صلى لنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لیلۃ صلاۃ العشاء ـ وہى التی یدعو الناس العتمۃ ـ ثم انصرف فاقبل علینا فقال ‏”‏ ارایتم لیلتکم ہذہ فان راس مایۃ سنۃ منہا لا یبقى ممن ہو على ظہر الارض احد ‏”‏‏.‏
‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے یہ کہا کہ مجھے(میرے باپ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ یہی جسے لوگ «عتمه» کہتے ہیں۔ پھر ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس رات کو یاد رکھنا۔ آج جو لوگ زندہ ہیں ایک سو سال کے گزرنے تک روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : بدوی لوگ نماز مغرب کو عشاء اور نماز عشاء کو عتمہ سے موسوم کرتے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بدویوں کی اصطلاح غالب نہ ہونی چاہئیے۔ بلکہ ان کو مغرب اورعشاء ہی کے ناموں سے پکارا جائے۔ عتمہ وہ باقی دودھ جو اونٹنی کے تھن میں رہ جاتا اور تھوڑی رات گزرنے کے بعد اسے نکالتے۔ بعضوں نے کہا کہ عتمہ کے معنی رات کی تاریکی تک دیر کرنا چونکہ اس نماز عشاءکایہی وقت ہے۔ اس لیے اسے عتمہ کہا گیا۔ بعض مواقع پر نماز عشاء کو صلوٰۃ عتمہ سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے درجہ جواز دیا گیا۔ مگربہتر یہی کہ لفظ عشاءہی سے یاد کیا جائے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس خیال سے کی کہ عشاءکے معنی لغت میں تاریکی کے ہیں اوریہ شفق ڈوبنے کے بعد ہوتی ہے۔ پس اگر مغرب کا نام عشاء پڑجائے تواحتمال ہے کہ آئندہ لوگ مغرب کا وقت شفق ڈوبنے کے بعدسمجھنے لگیں۔


English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 
Narrated `Abdullah: "One night Allah’s Apostle led us in the `Isha’ prayer and that is the one called Al-`Atma [??] by the people. After the completion of the prayer, he faced us and said, "Do you know the importance of this night? Nobody present on the surface of the earth tonight will be living after one hundred years from this night.” (See Hadith No. 575).

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں