Search

صحیح بخاری جلد اول :مواقیت الصلوات (اوقات نماز کا بیان) : حدیث:-569

كتاب مواقيت الصلاة
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
THE BOOK OF THE TIMES OF AS-SALAT (THE PRAYERS) AND ITS SUPERIORITY.
24- بَابُ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ لِمَنْ غُلِبَ:
باب: اگر نیند کا غلبہ ہو جائے تو عشاء سے پہلے بھی سونا درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : ” أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ ، فَقَالَ : مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ ، قَالَ : وَلَا يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ” .
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
569 ـ حدثنا أيوب بن سليمان، قال حدثني أبو بكر، عن سليمان، قال صالح بن كيسان أخبرني ابن شهاب، عن عروة، أن عائشة، قالت أعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعشاء حتى ناداه عمر الصلاة، نام النساء والصبيان‏.‏ فخرج فقال ‏”‏ ما ينتظرها أحد من أهل الأرض غيركم ‏”‏‏.‏ قال ولا يصلى يومئذ إلا بالمدينة، وكانوا يصلون فيما بين أن يغيب الشفق إلى ثلث الليل الأول‏.‏
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
569 ـ حدثنا ایوب بن سلیمان، قال حدثنی ابو بکر، عن سلیمان، قال صالح بن کیسان اخبرنی ابن شہاب، عن عروۃ، ان عایشۃ، قالت اعتم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بالعشاء حتى ناداہ عمر الصلاۃ، نام النساء والصبیان‏.‏ فخرج فقال ‏”‏ ما ینتظرہا احد من اہل الارض غیرکم ‏”‏‏.‏ قال ولا یصلى یومیذ الا بالمدینۃ، وکانوا یصلون فیما بین ان یغیب الشفق الى ثلث اللیل الاول‏.‏
‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے سلیمان سے، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے عروہ سے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء کی نماز میں دیر فرمائی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا، نماز! عورتیں اور بچے سب سو گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ راوی نے کہا، اس وقت یہ نماز (باجماعت) مدینہ کے سوا اور کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی۔ صحابہ اس نماز کو شام کی سرخی کے غائب ہونے کے بعد رات کے پہلے تہائی حصہ تک (کسی وقت بھی) پڑھتے تھے۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : حضرت امیرالدنیا فی الحدیث یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ عشاء سے پہلے سونا یا اس کے بعد بات چیت کرنا اس لیے ناپسندہے کہ پہلے سونے میں عشاءکی نماز کے فوت ہونے کا خطرہ ہے اور دیر تک بات چیت کرنے میں صبح کی نماز فوت ہونے کا خطرہ ہے۔ ہاں اگرکوئی شخص ان خطرات سے بچ سکے تو اس کے لیے عشاءسے پہلے سونا بھی جائز اوربعد میں بات چیت بھی جائز جیسا کہ روایات واردہ سے ظاہر ہے۔ اور حدیث میں یہ جو فرمایا کہ تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظارنہیں کرتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں میں کسی بھی امت پر اس نماز کو فرض نہیں کیاگیا، یہ نماز اہل اسلام ہی کے لیے مقرر کی گئی یا یہ مطلب ہے کہ مدینہ کی دوسری مساجد میں سب لوگ اوّل وقت ہی پڑھ کر سوگئے ہیں۔ صرف تم ہی لوگ ہو جو کہ ابھی تک اس کا انتظار کررہے ہو۔  
 

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 
Narrated Ibn Shihab from `Urwa: `Aisha said, "Once Allah’s Apostle delayed the `Isha’ prayer till `Umar reminded him by saying, "The prayer!” The women and children have slept. Then the Prophet came out and said, ‘None amongst the dwellers of the earth has been waiting for it (the prayer) except you.” `Urwa said, "Nowhere except in Medina the prayer used to be offered (in those days).” He further said, "The Prophet used to offer the `Isha’ prayer in the period between the disappearance of the twilight and the end of the first third of the night.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں