صحیح بخاری جلد اول :مواقیت الصلوات (اوقات نماز کا بیان) : حدیث:-590

كتاب مواقيت الصلاة
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
THE BOOK OF THE TIMES OF AS-SALAT (THE PRAYERS) AND ITS SUPERIORITY.
32- بَابُ مَنْ لَمْ يَكْرَهِ الصَّلاَةَ إِلاَّ بَعْدَ الْعَصْرِ وَالْفَجْرِ:
باب: اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے۔
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ كُرَيْبٌ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَقَالَ : شَغَلَنِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ .
‏‏‏‏ اور کریب نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا کہ بنو عبدالقیس کے وفد سے گفتگو کی وجہ سے ظہر کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : ” وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا ، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ ” .
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
590 ـ حدثنا أبو نعيم، قال حدثنا عبد الواحد بن أيمن، قال حدثني أبي أنه، سمع عائشة، قالت والذي ذهب به ما تركهما حتى لقي الله، وما لقي الله تعالى حتى ثقل عن الصلاة، وكان يصلي كثيرا من صلاته قاعدا ـ تعني الركعتين بعد العصر ـ وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصليهما، ولا يصليهما في المسجد مخافة أن يثقل على أمته، وكان يحب ما يخفف عنهم‏.‏
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
590 ـ حدثنا ابو نعیم، قال حدثنا عبد الواحد بن ایمن، قال حدثنی ابی انہ، سمع عایشۃ، قالت والذی ذہب بہ ما ترکہما حتى لقی اللہ، وما لقی اللہ تعالى حتى ثقل عن الصلاۃ، وکان یصلی کثیرا من صلاتہ قاعدا ـ تعنی الرکعتین بعد العصر ـ وکان النبی صلى اللہ علیہ وسلم یصلیہما، ولا یصلیہما فی المسجد مخافۃ ان یثقل على امتہ، وکان یحب ما یخفف عنہم‏.‏
‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

´ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ` اللہ کی قسم! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں (صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح) امت کو گراں باری ہو، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں داخل تھی۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated `Aisha: By Allah, Who took away the Prophet. The Prophet never missed them (two rak`at) after the `Asr prayer till he met Allah and he did not meet Allah till it became heavy for him to pray while standing so he used to offer most of the prayers while sitting. (She meant the two rak`at after `Asr) He used to pray them in the house and never prayed them in the mosque lest it might be hard for his followers and he loved what was easy for them .

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں