Search

مغرب سے پہلے دو رکعتیں – مانعین کے دلائل کا جائزہ

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

دلیل نمبر:۱

«عن طاؤس قال : سئل ابن عمر عن الرّكعتين قبل المغرب  فقال : ما رأيت أحداً علی عھد رسول الله صلّی الله عليه وسلم يصلّيھما ورخّص في الرّكعتين بعد العصر.»

”طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کی اجازت دی۔“ (سنن ابي داود : ۱۸۲/۱، ح : ۱۲۸۴، مسند عبد بن حميد : ق ۱۰۵، ح : ۸۰۴ مختصرا، السنن الكبرٰي للبيهقي : ۴۷۶/۲، وسنده حسن)

 تبصرہ:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب سے پہلے کسی کو نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے دیکھا ہے، حجت اس کی بات ہو گی، جس نے دیکھا ہے نہ کہ اس کی بات جس نے نہیں دیکھا، یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مثبت اور منفی میں تعارض ہو تو مثبت کو ترجیح ہوتی ہے۔ 

امام ِ بیہقی رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ـ
القول في مثل ھذا قول من شاھد دون من لم يشاھد …
”اس طرح کے ( تعارض ) میں اس شخص کی بات حجت ہو گی، جس نے مشاہدہ کیا ہے، نہ کہ اس کی جس نے مشاہدہ نہیں کیا۔“ 

تنبیہ :
یہاں پر بطور فائدہ عرض ہے کہ بعض الناس اس روایت کو پیش کرتے وقت اس کا آخری حصہ ترک کر دیتے ہیں کہ : ”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد دور کعتیں پڑھنے کی اجازت دی“۔
کیونکہ یہ ان کے خلاف ہے، یہ بدترین خیانت اور دین میں تحریف ہے۔  

فائدہ : 

قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، انہوں نے کہا، وہ تو ان دو رکعتوں سے منع کرتے تھے، میں نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی صحابی کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا۔ (مشکل الآثار للطحاوی : ۱۲۲/۱۴)

اس کی سند ”ضعیف“ ہے، اس کے راوی ہارون بن کامل کی توثیق نہیں مل سکی، ابن یونس مصری نے اسے اپنی تاریخ میں بغیر توثیق کے ذکر کیا ہے۔ 

دلیل نمبر:۲

قال عبدالرّزّاق عن الثّوری عن منصور عن ابراھيم، قال : لم يصلّ أبوبكر ولا عمر ولا عثمان الرّكعتين قبل المغرب.
”ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے مغرب سے پہلے دو رکعتیں نہیں پڑھیں۔“ 
(مصنف عبدالرزاق : ۴۳۵/۲، ۳۹۸۵)

 تبصرہ :
یہ روایت کئی وجوہ سے ”ضعیف“ ہے : 

(ا) امام عبدالرزاق بن ہمام صنعانی ”مدلس“ ہیں اور سماع کی تصریح ثابت نہیں ہے۔ 
(ب) امام ابراہیم نخعی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات اور سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا یہ روایت سخت ”منقطع“ ہے، ”منقطع“ سے حجت لینا صحیح نہیں۔ 

فائدہ :
المطالب العالیہ لابن حجر (
۶۲۳) میں ہے : 
قال مسدّد : حدّثنا یحیٰی عن سفیان، حدّثنی منصور عن أبیہ، قال….
منصور کے باپ کے حالات نہیں مل سکے، لہٰذا سند مردود ہے۔

دلیل نمبر:۳

«عن حماد قال : سألت ابراہیم عن الصّلاۃ قبل المغرب فنھانی عنھا وقال : انّ النّبیّ صلّی الله علیہ وسلم و أبابکر و عمر لم یصلّوھا. »

”حماد بن ابی سلیمان سے روایت ہے، کہتے ہیں، میں نے امام ابراہیم نخعی سے مغرب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے مجھے اس سے منع فرما دیا اور کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے یہ نماز نہیں پڑھی۔“ (کتاب الآثار للامام ابی حنیفۃ بروایۃ محمد : ۳۲)

 تبصرہ :
یہ موضوع (من گھڑت) روایت ہے، اس کا راوی محمد بن حسن شیبانی بالاتفاق ”ضعیف“ اور ”کذاب“ ہے، اسے امام ابوزرعہ رحمہ اللہ وغیرہ نے مجروح قرار دیا ہے۔ 

امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں : 
محمّد جہمیّ کذّاب.
”محمد (بن حسن شیبانی) جہمی (گمراہ فرقے کا) اور کذاب (پرلے درجے کا جھوٹا) ہے۔“ 
(الضعفاء للعقیلی : ۵۲/۴، وسندہ صحیح) 

نیز فرماتے ہیں : 
لیس بشیء.
”یہ کچھ بھی نہیں ہے۔“ 
(تاریخ ابن معین : ۱۷۷) 
انہوں نے محمد بن حسن کو ”ضعیف“ بھی قرار دیا ہے۔ (الکامل لابن عدی : ۱۷۴/۶، وسندہ صحیح) 

مزید فرماتے ہیں : 
اجتمع النّاس علی طرح ھؤلاء النفر، لیس یذاکر بحدیثھم، ولا یعتمد بھم، منھم محمّد بن الحسن…
”لوگوں (محدثین) کا ان راویوں کو ترک کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے، ان کی احادیث کا مذاکرہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان پر اعتماد کیا جاتا ہے، ان (متروک) راویوں میں سے ایک محمد بن حسن ہے۔“ 
(الکامل لابن عدی : ۱۷۵/۶، وسندہ صحیح) 

امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
لا أروی عنہ شیأ.
”میں اس سے کوئی روایت نہیں لیتا۔“ 
(الجرح والتعدیل : ۲۷/۷، وسندہ صحیح) 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت کے خلاف ایسے جھوٹے راوی کی روایت پیش کرنا دین اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہے۔ 

(ب) حماد بن ابی سلیمان آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔
امام ابن سعد لکھتے ہیں : 

اختلط فی آخر أمرہٖ.
”یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔“ 
(تہذیب التھذیب : ۱۵/۳) 

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ (م ۸۰۷ھ) لکھتے ہیں : 
ولا یقبل من حدیث حمّاد الّا ما رواہ عنہ القدماء : شعبۃ، وسفیان الثّوریّ، والدّستوائیّ، ومن عدا ھؤلاء رووا عنہ بعد الاختلاط.
”حماد بن ابی سلیمان کی حدیث قبول نہیں کی جائے گی، سوائے اس حدیث کے جو ان سے قدیم شاگرد، شعبہ، سفیان ثوری، دستوائی رحمہم اللہ بیان کریں، ان کے علاوہ سارے لوگوں نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی ہے۔“ 
(مجمع الزوائد : ۱۱۹/۱۔۱۲۰) 

امام ابوحنیفہ بھی حماد کے ان شاگردوں میں سے ہیں، جنہوں نے ان سے اختلاط کے بعد سماع کیا ہے، لہٰذا یہ روایت ”ضعیف“ و مردود ہے، اس میں نعمان بن ثابت راوی بھی بالاتفاق ”ضعیف ومتروک“ ہے۔ 

امام زیلعی حنفی (م ۷۲۶ھ) نے بھی اس روایت کو ”معضل“ (سخت منقطع) قرار دیا ہے۔ (نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ : ۱۴۱/۲) 

دلیل نمبر:۴

«قال الطّبرانی : حدّثنا يحيی بن صاعد ، ثنا محمّد بن منصور المكّی ، ثنا يحيی بن أبي الحجّاج ، ثنا عيسی بن سنان عن رجاء بن حيوة عن جابر ، قال : سألنا نساء رسول اللہ صلّی اللہ عليه وسلم : ھل رأيتنّ رسول اللہ صلّی اللہ عليه وسلم يصلّي الرّكعتين قبل المغرب ؟ فقلن : لا ، غير أنّ أمّ سلمة قالت : صلّاھما عندي مرّة ، فسألته : ما ھذه الصّلاة ؟ فقال : نسيت الرّكعتين قبل العصر ، فصلّيتھما الآن.»

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے سوال کیا،کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا، نہیں، سوائے اس کے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا، آپ نے ایک دفعہ یہ دو رکعتیں میرے ہاں پڑھی تھیں، میں نے پوچھا، یہ کیسی نماز ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں عصر سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنا بھول گیا تھا تو اب ان کو ادا کیا ہے۔“ (مسند الشامیین للطبرانی : ۲۱۲/۲، ح : ۲۱۱۰)

 تبصرہ :
یہ روایت ”ضعیف“ ہے، کیونکہ اس کی سند میں عیسیٰ بن سنان الحنفی راوی جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔ 

حافظ عراقی رحمہ اللہ (۷۶۵۔۸۰۶ھ) فرماتے ہیں : 
ضعّفہ الجمہور.
”اس کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔“ 
(المغنی عن حمل الاسفار فی الاسفار : ٢/٢٠٨) 

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
وضعّفہ الجمہور.
”اسے جمہور نے ضعیف کہا ہے۔“ 
(مجمع الزوائد : ١/٣٦) 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اسے لیّن الحدیث قرار دیتے ہیں۔ (تقریب التھذیب : ٥٢٩٥) 

اس روایت کے دوسرے راوی یحییٰ بن ابی الحجاج کو بھی حافظ ابن حجر نے لیّن الحدیث لکھا ہے۔ (التقریب : ۷۵۲۷)

دلیل نمبر:۵

«عن ابن المسیّب ، قال : کان المھاجرون لا یرکعون قبل المغرب وکانت الأنصار ترکع بھما.»

”سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ مہاجرین صحابہ کرام مغرب سے پہلے دو رکعتیں نہیں پڑھتے تھے، جبکہ انصار پڑھتے تھے۔“

 تبصرہ : 
(ا) یہ روایت امام زہری رحمہ اللہ کی ”تدلیس“ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے، اس کی صحت کے مدعی پر سماع کی تصریح لازم ہے۔ 
(ب) انصار صحابہ کا ان دو رکعتوں کو ادا کرنا تو ان کے مستحب ہونے کی واضح دلیل ہے، مہاجرین کے نہ پڑھنے سے وجوب کی نفی ہوتی ہے، جس کے ہم بھی قائل نہیں۔

دلیل نمبر:۶

«عن عبدالله بن بريدة عن أبيه ، قال : قال رسول الله صلّی الله عليه وسلّم : انّ عند كلّ أذانين ركعتين ماخلا صلاة المغرب.»

”عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک ہر دو اذانوں (اذان اور تکبیر) کے درمیان دو رکعتیں (مستحب) ہیں، سوائے مغرب کی نماز کے۔“ (سنن الدارقطنی : ۲۶۵/۱، ح : ۱۰۲۸، مسند البزار : ۳۳۴/۱)

 تبصرہ : 

(ا) یہ روایت حیان بن عبیداللہ (حسن الحدیث عند الجمہور) کے اختلاط کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔ 

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ذکر الصّلت منہ الاختلاط.
”صلت نے اس سے اختلاط کو ذکر کیا ہے۔“ 
(لسان المیزان : ۳۷۰/۲، التاریخ الکبیر : ۵۸/۳)

یہ حدیث بھی اس کا اختلاط ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی سند و متن کو خطا پر مبنی قرار دیا ہے۔ (معرفۃ السنن والآثار للبیہقی : ۹/۴) 

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں : 
ذكره ابن عدی، وقيل : انّه اختلط.
”اس (حیان بن عبیداللہ) کو امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، کہا گیا ہے کہ یہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔“ 
(مجمع الزوائد : ۲۳۱/۲) 

حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے ”ماخلا صلاة المغرب“ کی زیادت کو ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔ (البدر المنیر لابن الملقن : ۲۹۴/۴) 

(ب) عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ خود مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بیان کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری : ۱۵۷/۱، ح : ١١٨٣) 

نیز وہ خود یہ نماز پڑھتے بھی تھے۔ (صحیح ابن خزیمۃ : ۱۲۸۷، صحیح ابن حبان : ۱۵۵۹، وسندہ صحیح)
 

دلیل نمبر:۷

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
صلّوا المغرب لفطر الصّائم وبادروا طلوع النّجوم.
”مغرب (کی نماز) روزہ دار کے افطار کے وقت پڑھو اور ستاروں کے طلوع ہونے سے سبقت لے جاؤ (یعنی پہلے ہی نماز پڑھ لو) “۔ 
(مسند الامام احمد : ۴۲۱/۴)

 تبصرہ :
یہ روایت 
”رجل مبهم“ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔

دلیل نمبر:۸

سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : 
صلّوا صلاة المغرب مع سقوط الشّمس، بادروا بھا طلوع النّجوم
”مغرب سورج کے غروب ہوتے ہی پڑھ لو، اس کے پڑھنے میں ستاروں کے طلوع ہونے سے سبقت لے جاؤ۔“ 
(المعجم الکبیر للطبرانی : ۱۷۶/۴)

 تبصرہ :
ان دونوں روایتوں میں نماز مغرب جلدی پڑھنے کا حکم ہے، اس نے نماز مغرب سے پہلے دو رکعتوں کی نفی یا عدم جواز ثابت نہیں ہوتا۔ 

مغرب کی اذان بھی تو سورج کے غروب ہونے کے بعد ہی کہی جاتی ہے، اگر اچھے طریقے سے کہی جائے تو چار پانچ منٹ اذان پر صرف ہو جاتے ہیں، اب اگر کوئی اس روایت کو لے کر مغرب کی اذان نہ کہنے کا شوشہ کھڑا کر دے تو کیا وہ حق بجانب ہو گا ؟ 

سیدھی سی بات ہے کہ جس ہستی نے مغرب کی نماز جلدی پڑھنے کا حکم دیا ہے، اسی نے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کا حکم دیا ہے، خود بھی پڑھ کر دکھائی ہیں، نیز اپنے صحابہ کرام کو پڑھتے ہوئے دیکھا تو اظہار رضامندی فرمایا ہے۔ 

پھر دو رکعتوں کے پڑھنے میں بھلا کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کی نماز شروع کرنے، پڑھنے میں اتنی تاخیر نہ کرو کہ ستارے ظاہر ہو جائیں، اگر جلدی میں دو رکعتیں پڑھ لی جائیں تو ستارے کہاں ظاہر ہوتے ہیں ؟ 

جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز مغرب میں قصار مفصّل (چھوٹی چھوٹی آخری سورتوں) کی قراءت ثابت ہے۔ (سنن النسائی : ۱۷۶/۲، ح : ۹۸۴،۹۸۳، وسندہ حسن) ، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورہ طور کی قراءت بھی ثابت ہے۔ (صحیح بخاری : ۱۰۵/۱، ح : ۷۶۵، صحیح مسلم : ۱۸۷/۱، ح : ۴۶۳) 

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : 
انّ رسول الله صلّی الله عليه وسلّم قرأ فی صلاة المغرب بسورة الأعراف، فرّقھا في ركعتين. ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں سورہ اعراف پڑھی، اس کو دو رکعتوں میں تقسیم کر دیا تھا۔“(سنن النسائی : ۱۵۴/۱، ح : ۹۹۱، وسندہ صحیح ) 

سورہ طور اور سورہ اعراف کی تلاوت کرنے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مغرب یقیناً تاخیر سے ادا نہیں ہوئی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز عین وقت پر پڑھتے تھے، کیا دو رکعتیں اس سے بھی زیادہ وقت لیتی ہیں؟ 

حافظ نووی رحمہ اللہ (۶۳۱۔۶۷۶ھ) لکھتے ہیں : 
والمختار استحبابھا لھذه الأحاديث الصّحيحة الصّريحة
”ان صحیح و صریح احادیث کی روشنی میں مختار بات یہ ہے کہ مغرب سے پہلے (دو رکعت) نماز مستحب ہے۔“ 
(شرح صحیح مسلم للنووی : ۲۷۸/۱) 

نیز لکھتے ہیں : 
وأمّا قولھم : يؤدّي الٰی تأخير المغرب، فھذا خيال منابذ للسّنّة، فلا يلتفت اليه، ومع ھذا فھو زمن يسير، لا تتأخّر به الصّلاة عن أوّل وقتھا، وأمّا من زعم النّسخ، فھو مجازف، لأنّ النّسخ لا يصار اليه الّا اذا عجزنا عن التّأويل والجمع بين الأحاديث وعلمنا التّاريخ، وليس ھنا شيئ من ذلك.
”رہا ان (منکرین سنت) کا یہ کہنا کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا مغرب کو لیٹ کر دیتا ہے، تو یہ سنت دشمنی پر مبنی خیال ہے، اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا، نیز ان دو رکعتوں کی ادائیگی میں تھوڑا سا وقت لگتا ہے، جس سے نماز اول وقت سے لیٹ نہیں ہوتی، جس نے یہ دعوی کیا کہ یہ نماز منسوخ ہے، وہ بے تکی اور بے اصولی باتیں کرنے والا ہے، کیونکہ منسوخیت کا دعوی تو تب ہو گا، جب ہم حدیثوں کی تاویل اور ان کے درمیان جمع و تطبیق سے عاجز آ جائیں اور ہمیں تاریخ کا علم ہو جائے، جبکہ یہاں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔“ 
(شرح مسلم للنووی : ۲۷۸/۱) نیز دیکھیں (السعایۃ از عبدالحئ اللکنوی الحنفی : ۳۱/۲) 

برصغیر کے مشہور حنفی عالم جناب عبدالحئ لکھنوی (۱۲۶۴۔۱۳۰۴ھ) حافظ قسطلانی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 
مجموع الأحاديث تدل علی استحباب تخفيفھا كركعتی الفجر
”احادیث کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتوں کو فجر کی نماز سے پہلے والی دو رکعتوں کی طرح تخفیف سے پڑھا جائے۔“ 
(السعایۃ : ۲۹/۲) 

علامہ کرمانی حنفی بھی اس نماز کے استحباب کے قائل ہیں۔ (شرح الکرمانی : ۲۳/۵) 

جناب محمود الحسن دیوبندی اسیر مالٹا (م ۱۳۳۹ھ) کہتے ہیں :
”ہاں ! اگر بلا تاخیر مغرب نوافل پڑھ سکے یا کسی وجہ سے جماعت میں دیر ہو تو جائز ہے۔“ 
(تقاریر شیخ الھند : ۲۴۴،۵۲)

الحاصل :

مغرب سے پہلے دو نفل مستحب ہیں، کراہت پر کوئی دلیل نہیں ہے، دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے محبت کرنے والا بنائے۔ آمین !

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں