صحیح بخاری – حدیث نمبر 1927
باب: روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ، مساس وغیرہ درست ہے۔
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، وَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَآرِبُ حَاجَةٌ، قَالَ طَاوُسٌ: غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ الْأَحْمَقُ، لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ.
حدیث کی عربی عبارت (بغیر اعراب)
حدیث نمبر: 1927
حدثنا سليمان بن حرب ، قال: عن شعبة ، عن الحكم ، عن إبراهيم ، عن الأسود ، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل ويباشر وهو صائم، وكان أملككم لإربه، وقال: قال ابن عباس: مآرب حاجة، قال طاوس: غير أولي الإربة الأحمق، لا حاجة له في النساء.
حدیث کی عربی عبارت (مکمل اردو حروف تہجی میں)
حدیث نمبر: 1927
حدثنا سلیمان بن حرب ، قال: عن شعبۃ ، عن الحکم ، عن ابراہیم ، عن الاسود ، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، قالت: کان النبی صلى اللہ علیہ وسلم یقبل ویباشر وہو صائم، وکان املککم لاربہ، وقال: قال ابن عباس: مآرب حاجۃ، قال طاوس: غیر اولی الاربۃ الاحمق، لا حاجۃ لہ فی النساء.
حدیث کا اردو ترجمہ
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ روزہ سے ہوتے لیکن (اپنی ازواج کے ساتھ) يقبل (بوسہ لینا) و مباشرت (اپنے جسم سے لگا لینا) بھی کرلیتے تھے۔ نبی کریم ﷺ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے، بیان کیا کہ ابن عباس (رض) نے کہا کہ (سورۃ طہٰ میں جو مآرب کا لفظ ہے وہ) حاجت و ضرورت کے معنی میں ہے، طاؤس نے کہا کہ لفظ أولي الإربة (جو سورة النور میں ہے) اس احمق کو کہیں گے جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔
حدیث کا انگریزی ترجمہ (English Translation)
Narrated Aisha (RA):
The Prophet ﷺ used to kiss and embrace (his wives) while he was fasting, and he had more power to control his desires than any of you. Said Jabir, "The person who gets discharge after casting a look (on his wife) should complete his fast.”