صحیح بخاری – حدیث نمبر 3898
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3898
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ.
حدیث کی عربی عبارت (بغیر اعراب)
حدیث نمبر: 3898
حدثنا مسدد، حدثنا حماد هو ابن زيد، عن يحيى، عن محمد بن إبراهيم، عن علقمة بن وقاص، قال: سمعتعمر رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: الأعمال بالنية فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها، فهجرته إلى ما هاجر إليه، ومن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله.
حدیث کی عربی عبارت (مکمل اردو حروف تہجی میں)
حدیث نمبر: 3898
حدثنا مسدد، حدثنا حماد ہو ابن زید، عن یحیى، عن محمد بن ابراہیم، عن علقمۃ بن وقاص، قال: سمعتعمر رضی اللہ عنہ، قال: سمعت النبی صلى اللہ علیہ وسلم، یقول: الاعمال بالنیۃ فمن کانت ہجرتہ الى دنیا یصیبہا او امراۃ یتزوجہا، فہجرتہ الى ما ہاجر الیہ، ومن کانت ہجرتہ الى اللہ ورسولہ فہجرتہ الى اللہ ورسولہ.
حدیث کا اردو ترجمہ
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے علقمہ بن ابی وقاص نے، بیان کیا کہ میں نے عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ پس جس کا مقصد، ہجرت سے دنیا کمانا ہو وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کرسکے گا یا مقصد، ہجرت سے کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو وہ بھی اپنے مقصد تک پہنچ سکے گا۔ لیکن جن کا ہجرت سے مقصد، اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی ہوگی تو اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی۔
حدیث کا انگریزی ترجمہ (English Translation)
Narrated Umar (RA):
I heard the Prophet ﷺ saying, "The reward of deeds depends on the intentions, so whoever emigrated for the worldly benefits or to marry a woman, his emigration was for that for which he emigrated, but whoever emigrated for the Sake of Allah and His Apostle, his emigration is for Allah and His Apostle.”