ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا

تحریر : فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن محمد حفظ اللہ

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لا ينظر الله إلى من جر ثوبه خيلا ‏‏‏‏ [ متفق عليه]
”ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف دیکھے گا نہیں جس نے اپنا کپڑا تکبر کے ساتھ
کھینچا۔ “ [متفق عليه] ، [بلوغ المرام : 1249]
تخریج : [بخاري : 5791، 5783] ، [مسلم : اللباس 43] ، [بلوغ المرام : 1249] دیکھئے [تحفة الاشراف 466/5، 347/5، 215/6]
مفردات : الخيلاء تکبر یہ مصدر ہے۔ گھوڑوں کو خيل اس لئے کہتے ہیں کہ ان کی چال میں تکبر پایا جاتا ہے۔ [قاموس]
فوائد : ”دیکھے گا نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ رحمت اور محبت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔ کیونکہ اللہ کی نظر سے کوئی چیز غائب تو ہو ہی نہیں سکتی وجہ یہ ہے کہ متواضع مسکین مہربانی کی نظر کا حق دار ہوتا ہے متکبر و مغرور اس سے محروم ہو جا تا ہے بلکہ قہر کی نظر کا حقدار بن جاتا ہے۔ فرمان الہی ہے :
إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا [ 4-النساء : 36]
”یقیناًً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے شیخی خور کو پسند نہیں فرماتا۔ “
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم المسبل والمنان والمنفق سلعته بالحلف الكاذب [مسلم 71/1]
”تین آدمی ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے (کپڑا) لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کے ساتھ اپنا سامان بیچنے والا۔ “
➋ کپڑا لٹکانے پر یہ وعید عورتوں اور مردوں سب کے لئے ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث سے یہی بات سمجھی چنانچہ ترمذی اور نسائی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں ساتھ ہی یہ الفاظ ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک بالشت لٹکا لیا کریں۔ انہوں نے عرض کیا کہ اس صورت میں ان کے پاؤں کھل جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو ایک ہاتھ لٹکا لیں اس سے زیادہ نہ لٹکائیں۔ [سنن ترمذي اللباس]
اس سے معلوم ہوا کہ جو عورتیں کئی گز کپڑا اپنے پیچھے کھینچتے ہوئے چلتی ہیں، خصوصا شادی کے موقعہ پر وہ بھی اس وعید میں شامل ہیں۔ یورپی اقوام میں اور ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں کی عورتوں میں بھی یہ رسم بد چل پڑی ہے کہ وہ شادی کے موقعہ پر کئی گز لمبا غرارہ پہنتی ہیں جو پیچھے گھسٹتا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے کئی عورتوں نے اٹھا رکھا ہوتا ہے جو ساتھ ساتھ چلتی جاتی ہیں۔ نمود و نمائش اور کبر و نخوت کی ماری ہوئی یہ عورتیں بھی اللہ کی نگاہ لطف سے محروم ہیں۔ عورت مردوں کی طرح اپنے ٹخنے ننگے نہ رکھے بلکہ پاؤں کو چھپائے مگر ایک ہاتھ (دو بالشت) سے زیادہ کپڑا نہ لٹکائے بہتر یہ ہے کہ ایک بالشت ہی لٹکائے۔
➌ ”جس نے اپنا کپڑا تکبر کے ساتھ کھینچا۔ “ سے معلوم ہوا کہ تکبر کے بغیر کسی کا کپڑا نیچے چلا جائے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! میری چادر کا ایک کنارہ لٹک جاتا ہے سوائے اس کے کہ میں اس کا خاص خیال رکھوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنك لست ممن يصنعه خيلاء ”تم ان لوگوں سے نہیں ہو جو یہ کام تکبر سے کرتے ہیں۔ “ [بخاري 5784]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : إلا أن أتعاهد ذلك منه ”سوائے اس کے کہ میں اس کا خیال رکھوں۔ “ یعنی جب میں اس سے غافل ہو جاؤں تو وہ نیچے چلی جاتی ہے۔ احمد کے ہاں معمر عن زید بن اسلم کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا : إن إزارى يسترخى أحيانا ، ”میری چادر کبھی کبھی نیچے ڈھلک جاتی ہے۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ چلنے یا ہلنے جلنے سے ان کے اختیار کے بغیر چادر کی گرہ کھل جاتی تھی جب خاص خیال رکھتے تو نہیں ڈھلکتی تھی کیونکہ جب بھی ڈھلکنے لگتی اسے کس لیتے تھے۔ ابن سعد نے طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر عن عائشہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : كان أبوبكر أحنى لا يستمسك إزاره یسترخى عن حقويه ” ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قد جھکا ہوا تھا اپنی چادر تھام نہیں سکتے تھے وہ ان کے کولہوں سے ڈھلک جاتی تھی۔ “ [فتح الباري 266/10]
اب صاف ظاہر ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جان بوجھ کر چادر نیچے نہیں لٹکا تے تھے کبھی کبھی بے توجھی ہو جاتی تو نیچے ڈھلک جاتی تھی۔ اس طرح اگر کسی کی چادر ڈھلک جائے تو نہ یہ تکبر ہے نہ اس پر مواخذہ ہے۔
➍ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کپڑا لٹکائے اور کہے کہ میں نے تکبر سے نہیں لٹکایا تو اس کی یہ بات درست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی چادر کا مقام پنڈلی کا عضلہ (موٹا حصہ) مقرر فرمایا اس کے بعد پنڈلی کا نصف مقرر فرمایا زیادہ سے زیادہ ٹخنے کے اوپر تک رکھنے کی اجازت دی اور اس سے نیچے لٹکانا منع فرمایا بطور دلیل چند احادیث درج کی جاتی ہیں۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار [صحيح بخاري]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”چادر کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے وہ آگ میں ہے۔ “
عن حذيفة قال : اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بعضلة ساقي او ساقه فقال : ”هذا موضع الإزار“ فإن ابيت فاسفل فإن ابيت فلا حق للإزار فى الكعبين . قال ابوعيسى : هذا حديث حسن صحيح [ترمذي اللباس 1783]
حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی یا اپنی پنڈلی کا عضلہ (موٹا حصہ) پکڑ کر فرمایا : چادر کی جگہ یہ ہے اگر نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے اگر یہ بھی نہ مانو تو چادر کا ٹخنوں میں کوئی حق نہیں۔ “ ابوعیسیٰ (ترمذی) نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
علاوہ ازیں یہ حدیث احمد، نسائی، ابن ماجہ میں بھی ہے اور دیکھئے صحیح الترمذی 1457
ابوسعید رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام نے فرمایا :
إزرة المؤمن إلى نصف الساق ولا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين ما كان أسفل من الكعبين فهو فى النار من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه [صحيح – مالك، أحمد، أبوداود، ابن ماجه، ابن حبان، بيهقي، صحيح الجامع 921 ]
”مومن کے چادر باندھنے کی حالت نصف پنڈلی تک ہے اور اس کے اور ٹخنوں کے درمیان اس پر کوئی گناہ نہیں۔ جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے جو شخص تکبر سے اپنی چادر لٹکائے اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھے گا نہیں۔ “
➎ جان بوجھ کر چادر لٹکانا تکبر میں شامل ہے خواہ ایسا کرنے والا یہ کہے کہ میں نے اسے تکبر سے نہیں لٹکایا۔ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور کئی باتوں کے علاوہ ان سے فرمایا :
وارفع إزارك إلى نصف الساق فإن ابيت فإلى الكعبين وإياك وإسبال الإزار فإنها من المخيلة وإن الله لا يحب المخيلة [أبوداود 4084، نسائي، حاكم، صحيح أبى داود 3442 ]
”اور اپنی چادر نصف پنڈلی تک اونچی رکھو اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور چادر لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ یہ تکبر سے ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو یقیناًً پسند نہیں فرماتا۔ “ اور دیکھیے [صحيح ابي داود 3442 ]
➏ اگر کوئی شخص اپنی پنڈلیاں ٹیڑھی یا باریک ہونے کی وجہ سے چادر لٹکائے تو یہ بھی ناجائز ہے۔
عن الشريد رضى الله عنه قال : أبصر رسول الله رجلا يجر إزاره فأسرع إليه أو هرول فقال : ”إرفع إزارك واتق الله“، قال : إني أحنف تصطك ركبتاي . فقال : ”ارفع إزارك كل خلق الله حسن“، فما رؤي ذلك الرجل بعد إلا إزاره يصيب أنصاف ساقيه . [مسند أحمد 390/4]
شرید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی چادر کھینچتا ہوا جا رہا تھا آپ اس کی طرف جلدی سے گئے یا دوڑ کر گئے اور فرمایا اپنی چادر اوپر اٹھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس نے کہا: میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں میرے گھٹنے آپس میں رگڑ کھاتے ہیں، آپ نے فرمایا اپنی چادر اوپر اٹھاؤ کیونکہ اللہ عزوجل کی پیدا کی ہوئی ہر چیز ہی خوبصورت ہے تو اس کے بعد اس آدمی کو جب بھی دیکھا گیا، اس کی چادر نصف پنڈلی پر ہوتی تھی۔ “
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی بخاری اور مسلم کے راوی ہیں۔ [سلسلة الأحاديث الصحيحة 1441]
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اس صحابی کا چادر لٹکانا تکبر کی وجہ سے نہیں تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے منع فرمایا کہ اس میں تکبر پائے جانے کا گمان ہو سکتا تھا۔
عن عمرو بن فلان الأنصاري قال بينا هو يمشي قد أسبل إزاره إذ لحقه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد أخذ بناصية نفسه وهو يقول : اللهم عبدك، ابن عبدك، ابن أمتك قال عمرو : قلت : يا رسول الله ! إني رجل حمش الساقين فقال : يا عمرو ! إن الله عز وجل قد أحسن كل شيء خلقه يا عمرو ! وضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع أصابع من كفه اليمنى تحت ركبة عمرو فقال : يا عمرو ! هذا موضع الإزار ثم رفعها ثم وضعها تحت الثانية فقال : يا عمرو ! هذا موضع الإزار [مسند أحمد 200/4]
عمرو بن فلان الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ اپنی چادر لٹکائے ہوئے چل رہے تھے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ملے آپ نے اپنی پیشانی کے بال پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے، اے اللہ ! تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں (لٹکی ہوئی چادر سے ظاہر ہونے والے تکبر کی طرف توجہ دلانے کے لئے اپنی عاجزی کا اظہار فرما رہے تھے ) عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (یہ سن کر میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں پتلی پنڈلیوں والا آدمی ہوں (اس لئے چادر اٹھا رکھی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! یقیناًً اللہ عزوجل نے جو چیز پیدا کی ہے خوبصورت پیدا کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں ہتھیلی کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھ کر فرمایا : اے عمرو ! یہ چادر کی جگہ ہے پھر انگلیاں اٹھا کر دوبارہ اس سے نیچے رکھ کر فرمایا : اے عمرو ! یہ چادر کی جگہ ہے، پھر انگلیاں اٹھا کر دوبارہ اس سے نیچے رکھیں اور فرمایا اے عمرو ! یہ چادر کی جگہ ہے۔ “
یہ حدیث طبرانی نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور انہوں نے عمرو بن زرارہ کا یہ واقعہ اپنا چشم دید بیان کیا ہے۔ مسند احمد کی روایت جو اوپر بیان ہوئی ہے اس میں عمرو نے خود اپنا واقعہ بیان کیا ہے مگر اس میں عمرو بن فلاں بیان ہوا ہے یہ وہی عمرو بن زرارہ ہیں اور طبرانی نے خود عمرو بن زرارہ سے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [فتح 275/10]
➐ جو شخص جان بوجھ کر چادر یا شلوار ضرورت سے بڑی سلواتا ہے اور اسے ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہے تکبیر کے علاوہ اس کے ناجائز ہونے کی چند اور وجھیں بھی ہیں۔
پہلی وجہ : اسراف (فضول خرچی) ہے جو کہ حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ 7-الأعراف:31]
” اور فضول خرچی نہ کرو وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ٭ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا [ 17-الإسراء:26]
”اور فضول خرچی نہ کرو بلاشبہ فضول خرچ شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان تو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔“
دوسری وجہ : عورتوں سے مشابہت ہے جو اس میں اسراف سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن المرأة تلبس لبسة الرجل والرجل يلبس لبسة المرأة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مرد کی طرح کا لباس پہنے اور اس مرد پر لعنت فرمائی جو عورت کا لباس پہنے۔“ [حاكم 194/4]
حاکم نے فرمایا یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ عورت اگر اپنے ٹخنے ننگے رکھے تو مرد سے مشابہت ہے اور مرد اپنے ٹخنے ڈھانک کر رکھے تو عورت سے مشابہت ہے۔
تیسری وجہ : یہ ہے کہ چادر لٹکانے والے کی چادر کے ساتھ کوئی نہ کوئی نجاست لگنے کا اندیشہ رہتا ہے جب کہ اللہ تعلق کا حکم ہے وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ [74-المدثر:4] ”اپنے کپڑے پاک رکھ“ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چادر لٹکانے سے منع فرماتے ہوئے ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی۔
صحیح بخاری میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مفصل واقعہ مذکور ہے عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ جب امیر المؤمنین کو پیٹ میں خنجر مارا گیا تو انہیں اٹھا کر گھر لایا گیا ہم بھی ساتھ گئے نبیذ بنائی گئی انہوں نے پی تو پیٹ سے نکل گئی پھر دودھ لایا گیا آپ نے پیا تو زخم سے نکل گیا۔ لوگوں کو یقین ہو گیا۔ کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔ اب ہم ان کے پاس داخل ہوئے اور لوگ بھی آنے لگے اور ان کی تعریف کرنے لگے ایک نوجوان آیا اس نے کہا: امیر المؤمنین اللہ کی طرف سے خوش خبری کے ساتھ خوش ہو جائیے۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور اسلام میں پیش قدی کی جو نعمت حاصل ہوئی آپ کو معلوم ہی ہے، پھر آپ حاکم بنے تو عدل کیا پھر شہادت نصیب ہوئی۔ فرمانے لگے میں تو یہ پسند کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ برابر برابر رہ جائے نہ مجھ پر (بوجھ ) ہو نہ میرے لئے (کچھ) ہو۔ جب وہ واپس جانے لگا تو اس کی چادر زمین پر لگ رہی تھی فرمایا اس نوجوان کو میرے پاس واپس لاؤ فرمایا :
يا ابن أخي إرفع ثوبك فانه انقي لثوبك واتقي لربك
”بھتیجے اپنا کپڑا اوپر اٹھا لو کیونکہ یہ تمہارے کپڑے کو زیادہ صاف رکھنے کا باعث ہے اور تمہارے پروردگار سے زیادہ ڈرنے کا باعث ہے۔ “ [ بخاري 3700]
یہاں ان بھائیوں کو غور کرنا چاہئیے جو ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کو معمولی خیال کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اتنی تکلیف کی حالت میں بھی کپڑا لٹکانے سے منع فرمانے کو ضروری سمجھا ہے۔
➑ زیر بحث حدیث میں مذکور لفظ من جر ثوبه إلخ سے صاف ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چادر لٹکانے سے ہی منع نہیں فرمایا بلکہ چادر شلوار قمیص کوئی بھی کپڑا ہو اسے لٹکانا منع ہے۔

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں