Search

صحیح بخاری جلد اول : كتاب الوضوء (وضو کا بیان) : حدیث 149

كتاب الوضوء
کتاب: وضو کے بیان میں
(THE BOOK OF WUDU (ABLUTION
14- بَابُ التَّبَرُّزِ فِي الْبُيُوتِ:
باب: گھروں میں قضائے حاجت کرنا ثابت ہے۔

[quote arrow=”yes”]

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَأَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ”.
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
149 ـ حدثنا يعقوب بن إبراهيم، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال أخبرنا يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، أن عمه، واسع بن حبان، أخبره أن عبد الله بن عمر أخبره قال لقد ظهرت ذات يوم على ظهر بيتنا، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا على لبنتين مستقبل بيت المقدس‏.‏
 
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
149 ـ حدثنا یعقوب بن ابراہیم، قال حدثنا یزید بن ہارون، قال اخبرنا یحیى، عن محمد بن یحیى بن حبان، ان عمہ، واسع بن حبان، اخبرہ ان عبد اللہ بن عمر اخبرہ قال لقد ظہرت ذات یوم على ظہر بیتنا، فرایت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قاعدا على لبنتین مستقبل بیت المقدس‏.‏

ا اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہمیں یحییٰ نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے خبر دی، انہیں ان کے چچا واسع بن حبان نے بتلایا، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر (قضاء حاجت کے وقت) بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے نظر آئے۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کبھی اپنے گھر کی چھت اور کبھی حضرت حفصہ کے گھر کی چھت کا ذکر کیا ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ گھر تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ ہی کا تھا۔ مگر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ورثہ میں ان ہی کے پاس آ گیا تھا۔ اس باب کی احادیث کا منشاءیہ ہے کہ گھروں میں پاخانہ بنانے کی اجازت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مکانوں میں قضائے حاجت کے وقت کعبہ شریف کی طرف منہ یا پیٹھ کی جا سکتی ہے.

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated `Abdullah bin `Umar: Once I went up the roof of our house and saw Allah’s Apostle answering the call of nature while sitting over two bricks facing Baitul-Maqdis (Jerusalem). (See Hadith No. 147).

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں