Search

صحیح بخاری جلد اول :كتاب الأذان (اذان کا بیان) : حدیث:-660

كتاب الأذان
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
The Book of Adhan

36- بَابُ مَنْ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ، وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ:
باب: جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت۔
(36) Chapter. (The reward of a person) who waits for As-Salat (the prayer) in the mosque and the superiority of mosques.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ” سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ” .
حدیث عربی بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 
660 ـ حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله الإمام العادل، وشاب نشأ في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل طلبته امرأة ذات منصب وجمال فقال إني أخاف الله‏.‏ ورجل تصدق أخفى حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه ‏”‏‏.‏
الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
660 ـ حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا یحیى، عن عبید اللہ، قال حدثنی خبیب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابی ہریرۃ، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال ‏”‏ سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ الامام العادل، وشاب نشا فی عبادۃ ربہ، ورجل قلبہ معلق فی المساجد، ورجلان تحابا فی اللہ اجتمعا علیہ وتفرقا علیہ، ورجل طلبتہ امراۃ ذات منصب وجمال فقال انی اخاف اللہ‏.‏ ورجل تصدق اخفى حتى لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ، ورجل ذکر اللہ خالیا ففاضت عیناہ ‏”‏‏.‏
‏‏اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

‏‏‏‏´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» (اللہ کے لیے محبت) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے (برے ارادہ سے) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور(بے ساختہ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریح : علامہ ابوشامہ عبدالرحمن بن اسماعیل نے ان سات خوش نصیبوں کا ذکر ان شعروں میں منظوم فرمایاہے

و قال النبی المصطفی ان سبعۃ
یظلہم اللہ الکریم بظلہ
محب عفیف ناشی متصدق
باک مصل و الامام بعدلہ

ان سات کے علاوہ بھی اوربہت سے نیک اعمال ہیں۔ جن کے بجالانے والوں کو سایہ عرش عظیم کی بشارت دی گئی ہے۔
حدیث کے لفظ قلبہ معلق فی المساجد ( یعنی وہ نمازی جس کا دل مسجد سے لٹکا ہوا رہتاہو ) سے باب کا مقصد ثابت ہوتاہے۔ باقی ان ساتوں پر تبصرہ کیاجائے تو دفاتر بھی ناکافی ہیں۔ متصدق کے بارے میں مسنداحمد میں ایک حدیث مرفوعاً حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ فرشتوں نے کہا یااللہ! تیری کائنات میں کوئی مخلوق پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے؟ اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے۔ پھر پوچھا کہ کوئی مخلوق لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا کہ ہاں آگ ہے جو لوہے کو بھی پانی بنادیتی ہے۔ پھر پوچھا پروردگار کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ فرمایا ہاں پانی ہے جو آگ کو بھی بجھا دیتا ہے۔ پھر پوچھا الٰہی کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ اہم ہے فرمایا ہاں ہوا ہے جو پانی کو بھی خشک کردیتی ہے، پھر پوچھا کہ یااللہ! کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ اہم ہے فرمایا ہاں آدم کا وہ بیٹا جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ کیاصدقہ کیا۔
حدیث مذکورہ میں جن سات خوش نصیبوں کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مخصوص طور پر مردوں ہی کو نہ سمجھنا چاہئیے۔ بلکہ عورتیں بھی اس شرف میں داخل ہوسکتی ہیں اورساتوں وصفوںمیں سے ہر ہر وصف اس عور ت پر بھی صادق آسکتاہے جس کے اندر وہ خوبی پیدا ہو۔ مثلاً ساتواں امام عادل ہے۔ اس میں وہ عورت بھی داخل ہے جو اپنے گھر کی ملکہ ہے اور اپنے ماتحتوں پر عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کرتی ہے۔ اپنے جملہ متعلقین میں سے کسی کی حق تلفی نہیں کرتی، نہ وہ کسی کی رو رعایت کرتی ہے بلکہ ہمہ وقت عدل و انصاف کو مقدم رکھتی ہے وعلی ہذاالقیاس۔
English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Allah will give shade, to seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other only for Allah’s sake and they meet and part in Allah’s cause only, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given (i.e. nobody knows how much he has given in charity), and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں