محدثین کی عقل پھر معیار حق کیوں ؟

تحریر:  ابوبکر  قدوسی
میرا یہ لکھنا تھا کہ عقل کی بنیاد پر حدیث کو پركها جائے گا تو عقل کس کی ہوگی ۔۔میری یا آپ کی ؟
اس پر ہمارے ایک دوست نے اعتراض کیا ۔۔کہ محدثین کی عقل کو پھر کیوں کر معیار تسلیم کیا جائے گا ، آخر وہ بھی تو انسان تھے ، غلطی انسان سے بھی ہو سکتی ہے ، اور ان کو وحی کی رہنمائی نہیں تھی کہ وہ غلط کر ہی نہیں سکتے ۔۔۔
۔بظاہر اعتراض بہت جاندار ہے لیکن میرے بھائی معاملے کو سمجھ نہیں سکے ۔۔۔حدیث میں دو حصے ہوتے ہیں ایک سند ہوتی ہے دوسرا متن ہوتا ہے ۔۔رسول ﷺ سے آخری راوی تک جو افراد کا سلسلہ ہوتا ہے اس کو سند کہتے ہیں ۔۔بطور مثال بخاری کی پہلی حدیث
حدثنا الحميدي عبد الله بن الزبير، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاري، قال أخبرني محمد بن إبراهيم التيمي، أنه سمع علقمة بن وقاص الليثي، يقول سمعت عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنه
اس میں جتنے افراد کا ذکر ہے ان کو سند  کہا جاتا ہے یعنی ایک نے دوسرے سے سنا ۔۔
اب اس کے بعد متن ہوتا ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ۔۔۔
اب سند کا معاملہ ایسا نہیں کہ جس میں کوئی عقل اور فہم کا جھگڑا ہو محض نام ہیں ۔۔۔
آگے آتا ہے متن ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں ۔۔اس پر سب جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔۔
تو میرے عزیز دوست !محدثین کے فہم کا تو سوال ہی ختم ہوگیا ۔۔محدثین کا تو کام صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ایک بات اچھے طریقے سے محفوظ کی ،  اس کو کاپی کیا اور آپ تک پہنچا دیا ۔۔۔
ہاں جب محدث اس کی شرح کرے گا تب آپ محدث سے اختلاف کر سکتے ہیں اور آپ کا حق ہے آپ کہہ صحت کا بہت دس کی عقل کا اعتبار کیوں کیا جائے  ۔۔لیکن اس اختلاف کی بنیاد اس اصول پر مبنی ہوگی ۔۔لیکن جب آپ متن حدیث کو عقل کے ترازو پر پرکھیں گے تو دوسرے لفظوں میں آپ رسول ﷺ کی بات کو عقل کے ترازو میں رکھ کر رکھ رہے ہیں یعنی وحی کو ۔۔
اب تھوڑا آگے چلتے ہیں ۔
ہم جب عقل کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں تو مقابلے میں وحی ہوتی ہے ۔۔۔
بطور مثال قرآنی وحی میں بعض ایسے واقعات آتے ہیں کہ جو بظاہر عقل پر پورے نہیں اترتے جیساکہ :
ابراہیم علیہ السلام کو ایک عظیم آگ میں کھیلا جاتا ہے اور آگ ٹھنڈی ہو جاتی ہے ۔۔
جیسا کہ موسی علیہ السلام کے ساتھی معروف خضر کا ایک بچے کو اس بنیاد پر قتل کر دینا کہ وہ بڑا ہو کر یوں کرے گا ۔۔
اس طرح کی بیسیوں مثالیں قرآن پاک میں موجود ہے لیکن جب یہ سامنے آتی ہے تو ہم اپنی عقل کو پست اور کم تر قرار دے کر ان واقعات پر ایمان لے کے آتے ہیں ۔۔پچھلی پوسٹ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ  قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی ہے جو حدیث ہے ۔۔۔اور وحی منجانب اللہ ہوتی ہے ، اور انسان اس کا پابند ہوتا ہے اگر وہ خود کو مومن سمجھتا ہے ۔۔
اب جب یہ نکتہ طے ہوگیا کہ وحی کے مقابلے میں عقل کی حیثیت ثانوی ہے تو صحیح ثابت شدہ احادیث کے مقابلے میں بھی عقل کی حیثیت ثانوی رہے گی ۔۔
اب آتے ہیں محدثین کی طرف :
محدثین کا کام احادیث کے متن کو جمع کرنا ہے ، ان کی چھان پھٹک کر کے درست نادرست کو الگ کرنا ہے ، وہ کوئی وحی کی تفہیم نہیں کر رہے محض اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نقل کر رہے ہیں ۔اور آپ کے لئے محفوظ کر رہے ہیں ۔۔۔
ہم  جب حدیث کو عقل سے بلند تر قرار دیتے ہیں یہ کہہ کے کہ
"یہ تو وحی ہے”
تو دراصل محدث کو عقل سے بلند نہیں لے کے جا رہے بلکہ  اللہ کے رسول کی بات کو عقل سے بلند قرار دے رہے ہیں ۔۔
محدثین کا اصل میدان متن حدیث نہیں بلکہ متن حدیث سے پیچھے سند کی تحقیق ہے ۔۔
بلاشبہ محدثین بھی انسان تھے ان سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن انسانوں کی اجتماعی دانش ہمیشہ غلط نہیں ہو سکتی ۔۔ایک فرد غلطی کر سکتا ہے دو فرد غلطی کرسکتے ہیں دس افراد بھی غلطی کر سکتے ہیں ۔۔۔لیکن یہ ممکن نہیں کہ صدیوں تک تمام کا تمام گروہ  بلکہ تمام امت کا ہر فرد غلطی پر غلطی کرتا رہا اور غلطی پکڑی نہ جا سکی اور اب ڈیڑھ ہزار برس بعد کچھ افراد کو سمجھ آنا شروع ہوئی ۔۔
اب محدثین کے اصول حدیث پر ایک نظر کرتے ہیں ۔۔۔
پہلی بات : یہ کہ اصول بھی انسانوں نے بنائے ہیں ان میں غلطی کا امکان موجود ہے لیکن :
ایک ہوتا ہے غلطی کا امکان ہونا ، ایک ہوتا ہے غلطی ہونا ۔۔
اصول میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے ؟
بالکل ہو سکتا ہے ،  لیکن ایک خاص مقام پر جا کے میں ، آپ ، ہم سب یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ اصول ہرگز غلط نہیں سوفیصد درست ہے ۔۔۔
حدیث کے درست یا نا درست ہونے کے چند نمایاں اصول دیکھ لیجئے ، پھر آگے چلتے ہیں ۔
محدثین کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ راوی ثقہ ہو ۔۔ثقہ کا مفہوم آپ قابل اعتبار سمجھ لیجئے ۔۔اب کسی انسان پر اعتبار کرنے کے لئے محدثین کے نزدیک اہم ترین امور پر نظر کیجیے ۔۔
کسی سند کی روایت میں سب سے اہم شخص راوی ہوتا ہے جو حدیث کو روایت کر رہا ہے ۔۔اس کی قبولیت کی بنیادی دو شرطیں ہیں۔
ایک اس کی عدالت ۔۔ یعنی وہ مسلمان ہو بالغ ہو عقل ہو گناہوں سے دور ہو اور بری سے محفوظ ہو جھوٹا نہ ہو ۔۔۔
دوسری شرط راوی کا ضبط ۔۔۔یعنی زیادہ غلطیاں کرنے والا نہ ہو برے حافظے والا نہ ہو زیادہ غلطیاں کرنے والا نہ ہو اور زیادہ وہم کا شکار نہ ہو ۔۔
یہاں انتہائی اہم نکتہ آپ کے ذہن میں رہے کہ راوی اگر ثقہ بھی ہے تو ائمہ حدیث اس کی ثقاہت پر یقین کرکے آنکھیں نہیں بند کر لیتے ۔۔۔اس پر بھی ایک مزید چیک ہے ۔۔۔وہ یہ کہ اس صاف ستھرے پکے سچے راوی کو کہیں وہم تو نہیں ہوا ۔۔۔اگر ان  ثقہ  اور عادل راویوں کو بھی کسی حدیث میں وہم ہوا ہے تو محدثین نے اس کے لئے الگ فن ایجاد کیا ۔۔اس کو علل الحدیث کہتے ہیں ، اور اس موضوع پر ائمہ حدیث نے مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں ایسی احادیث کو جمع کردیا گیا جن میں راویوں کو  وہم ہوا ۔۔
راوی کے حوالے سے  جو اصول ہیں انکو  میں نے بہت مختصر کرکے بیان کیا بلکہ اشارہ ہی کیا ہے  اگر آپ ان کی تفصیل میں جائیں گے تو آپ حیرت زدہ ہو جائیں گے کہ محدثین نے کس قدر باریک بینی سےان کی چھان پھٹک کی اور ان کے معاملات کو دیکھا پرکھا ۔۔۔
۔۔اب  آپ دوستوں سے سوال ہے کہ عقل کے معیار پر یہ اصول کیسے ہیں ؟
کیا ان میں کوئی ایسی کمزوری نظر آتی ہے کہ جس پر کہا جائے کہ محدثین کی عقل پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ؟
یہ تو ہو گیا راوی کا معاملہ ۔۔
. . اب حدیث کو قبول کرنے یا رد کرنے کے دیگر اصولوں کی طرف نظر کرتے ہیں
بطورمثال میں ایک اصول پر بات کرتا ہوں ۔۔۔
محدثین اس حدیث کو قبول کرتے ہیں کہ جس میں سند متصل ہو اور اس میں انقطاع نہ ہو ۔۔اس اتصال سند کے لئے کچھ ائمہ حدیث یہ کافی سمجھتے ہیں کہ روایت کرنے والا اور جس سے روایت کی جارہی ہے وہ ایک زمان و مکان  میں ہی موجود ہوں ، اور راوی مدلس نہ ہو ۔۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس اصول کو مزید ترقی دی یعنی کہ احتیاط کو مزید بڑھاوا دیا ۔انہوں نے صحیح بخاری میں قبولیت حدیث کی شرط یہ رکھی کہ روایت کرنے والا اور جس سے روایت کی جا رہی ہے دونوں کا زمانہ ہی ایک نہ ہو بلکہ دونوں کی ملاقات بھی ثابت ہو ۔۔۔بلکہ امام بخاری کے استادامام علی مدینی اور بہت سارے آئمہ کا اس معاملے میں امام بخاری  رحمہ اللہ والا ہی موقف ہے کہ دونوں راویوں کے درمیان ملاقات ثابت ہونا ضروری ہے ورنہ حدیث نہیں لی جائے گی ۔
بعض قلیل ائمہ نے اس کو بے جا سختی قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ جب دونوں راویوں کا زمانہ ایک ہے اور دونوں کا علاقہ بھی ایک ہے تو یہ شرط درست نہیں ۔۔لیکن امام بخاری کی ذاتی چوائس تھی کہ انہوں نے اپنی کتاب کے لیے سخت ترین شرط ملحوظ خاطر رکھی ۔۔۔
اب آپ احباب سے سوال ہے کے سند کی تحقیق میں اس سے زیادہ احتیاط ممکن ہے ؟
اور کیا عقل پر اس حد تک انحصار کافی نہیں ؟
تو دوست ! محدثین کے اصول مسلمانوں کی اجتماعی دانش نے ڈیڑھ ہزار سال تک قبول کیے اور ان کو درست قرار دیا ۔آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ اصول کمزور ہیں ۔اس میں چور دروازہ ہے جسے نقب لگتی ہے ۔البتہ یہ ضرور کیا گیا کہ اصولوں کو مزید ترقی دی گئی تاکہ احتیاط میں کوئی کمی نہ رہ جائے ۔۔۔

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں