Search

صحیح بخاری جلد اول : كتاب الإيمان (ایمان کا بیان) : حدیث 25

كتاب الإيمان
کتاب: ایمان کے بیان میں
.(THE BOOK OF BELIEF (FAITH
 
17- بَابُ: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ (کافر) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (یعنی ان سے جنگ نہ کرو)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْحٍ الْحَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ”.

حدیث عربی رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:        [sta_anchor id=”arnotash”] 

25 ـ حدثنا عبد الله بن محمد المسندي، قال حدثنا أبو روح الحرمي بن عمارة، قال حدثنا شعبة، عن واقد بن محمد، قال سمعت أبي يحدث، عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏”‏ أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، ويقيموا الصلاة، ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام، وحسابهم على الله ‏”‏‏.‏
حدیث اردو رسم الخط میں بغیراعراب کے ساتھ:   [sta_anchor id=”urnotash”]
25 ـ حدثنا عبد اللہ بن محمد المسندی، قال حدثنا ابو روح الحرمی بن عمارۃ، قال حدثنا شعبۃ، عن واقد بن محمد، قال سمعت ابی یحدث، عن ابن عمر، ان رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال ‏”‏ امرت ان اقاتل الناس حتى یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ، ویقیموا الصلاۃ، ویوتوا الزکاۃ، فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماءہم واموالہم الا بحق الاسلام، وحسابہم على اللہ ‏”‏‏.‏

حدیث کا اردو ترجمہ:   [sta_anchor id=”urdtrjuma”]

اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے ابوروح حرمی بن عمارہ نے، ان سے شعبہ نے، وہ واقد بن محمد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ (رہا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

حدیث کی اردو تشریح:   [sta_anchor id=”urdtashree”]

تشریحعلامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ابواب ایمان میں لانے سے فرقہ ضالہ مرجیہ کی تردید مقصود ہے جن کا گمان ہے کہ ایمان کے لیے عمل کی حاجت نہیں۔ آیت اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے توبہ کرنے اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر آیت میں  حکم دیا گیا ہے کہ ان کا راستہ چھوڑدو یعنی جنگ نہ کرو۔ اور حدیث میں اس کی تفسیر مزید کے طور پر نماز اور زکوٰۃ کے ساتھ کلمہ شہات کا بھی ذکر کیاگیا اور بتلایاگیا کہ جو لوگ ان ظاہری اعمال کو بجالائیں گے ان کو یقینا مسلمان ہی تصور کیا جائے گا اور وہ جملہ اسلامی حقوق کے مستحق ہوں گے۔ رہا ان کے دل کا حال سو وہ اللہ کے حوالہ ہے کہ دلوں کے بھیدوں کا جاننے والا وہی ہے۔
الابحق الاسلام کا مطلب یہ کہ قوانین اسلام کے تحت اگر وہ کسی سزا یاحد کے مستحق ہوں گے تو اس وقت ان کا ظاہری اسلام اس بارے میں رکاوٹ نہ بن سکے گا اور شرعی سزا بالضرور ان پر لاگو ہوگی۔ جیسے محصن زانی کے لیے رجم ہے۔ ناحق خون ریزی کرنے والے کے لیے قصاص ہے۔ یاجیسے وہ لوگ تھے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد زکوٰۃ سے انکار کر دیا تھا۔ جس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صاف صاف فرمادیا کہ لاقاتلن من فرق بین الصلوۃ والزکوٰۃ جو لوگ نماز کی فرضیت کے قائل ہیں مگر زکوٰۃ کی فرضیت اور ادائیگی سے انکار کررہے ہیں ان سے میں ضرور مقابلہ کروں گا۔ الابحق الاسلام میں ایسے جملہ امور داخل ہیں۔
آیت شریفہ مذکورہ سورۃ توبہ میں ہے جو پوری یہ ہے فاذا انسلخ الاشہر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم وخذوہم واحصروہم واقعدوالہم کل مرصد فان تابوا واقامواالصلوۃ واٰتواالزکوٰۃ فخلوا سبیلہم ان اللہ غفور رحیم ( التوبہ: 5 ) یعنی حرمت کے مہینے گزرنے کے بعد ( مدافعانہ طور پر ) مشرکین سے جنگ کرو اور جہاں بھی تمہارا داؤلگے ان کو مارو، پکڑو، قیدکرو اور ان کے پکڑنے یا زیرکرنے کے لیے ہرگھات میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ شرارت سے توبہ کریں اور ( اسلام قبول کرکے ) نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑدو۔ کیونکہ اللہ پاک بخشنے والا مہربان ہے۔
آیت شریفہ کا تعلق ان مشرکین عرب کے ساتھ ہے جنھوں نے مسلمانوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیا اور ہر وقت وہ مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی فکر میں رہے اور “ خود جیو اور دوسروں کو جینے دو ” کا فطری اصول قطعاً بھلادیا۔ آخر مسلمانوں کو مجبوراً مدافعت کے لیے قدم اٹھانا پڑا۔ آیت کا تعلق ان ہی لوگوں سے ہے اس پر بھی ان کو آزادی دی گئی کہ اگروہ جارحانہ اقدام سے بازآجائیں اور جنگ بند کرکے جزیہ ادا کریں تو ان کو امن دیا جائے گا اور اگر اسلام قبول کرلیں تو پھر وہ اسلامی برادری کے فرد بن جائیں گے اور جملہ اسلامی حقوق ان کو حاصل ہوں گے۔
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ویؤخذ من ہذا الحدیث قبول الاعمال الظاہرۃ والحکم بمایقتضیہ الظاہر والاکتفاءفی قبول الایمان بالاعتقاد الجازم۔ یعنی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعمال ظاہری کو قبول کیا جائے گا اور ظاہری حال ہی پر حکم لگایا جائے گا اور پختہ اعتقاد کو قبولیت ایمان کے لیے کافی سمجھا جائے گا۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ویوخذ منہ ترک تکفیر اہل البدع المقرین بالتوحید الملتزمین للشرائع وقبول توبۃ الکافر من کفرہ من غیرتفصیل بین کفر ظاہر اوباطن یعنی اس حدیث سے یہ بھی لیا جائے گا کہ جو اہل بدعت توحید کے اقراری اور شرائع کا التزام کرنے والے ہیں ان کی تکفیر نہ کی جائے گی اور یہ کہ کافر کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس کی تفصیل میں نہ جائیں گے کہ وہ توبہ ظاہری کررہا ہے یا اس کے دل سے بھی اس کا تعلق ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ ہاں جو لوگ محبت بدعت میں گرفتار ہوکر علانیہ توہین و انکار سنت کریں گے وہ ضرور آیت کریمہ فان تولوا فان اللہ لایحب الکفرین ( آل عمران: 32 ) کے مصداق ہوں گے۔
حضرت امام المحدثین مرجیہ کی تردید کرتے ہوئے اور یہ بتلاتے ہوئے کہ اعمال بھی ایمان ہی میں داخل ہیں، تفصیل مزید کے طور پر آگے بتلانا چاہتے ہیں کہ بہت سی آیات قرآنی واحادیث نبوی میں لفظ عمل استعمال ہوا ہے اور وہاں اس سے ایمان مراد ہے۔ پس مرجیہ کا یہ قول کہ ایمان قول بلاعمل کا نام ہے، باطل ہے۔
حضرت علامہ مولانا عبیداللہ صاحب شیخ الحدیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفی الحدیث رد علی المرجئۃ فی قولہم ان الایمان غیرمفتقر الی الاعمال وفیہ تنبیہ علی ان الاعمال من الایمان والحدیث موافق لقولہ تعالیٰ فان تابوا واقامواالصلوۃ فخلوا سبیلہم متفق علیہ اخرجہ البخاری فی الایمان والصلوۃ ومسلم فی الایمان الا ان مسلمالم یذکر الابحق الاسلام لکنہ مراد والحدیث اخرجہ ایضا الشیخان من حدیث ابی ہریرۃ والبخاری من حدیث انس ومسلم من حدیث جابر ( مرعاۃ جلد: اولص: 366 ) مراد وہی ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الایمان اور کتاب الصلوٰۃ میں نقل کیا ہے اور امام مسلم نے صرف ایمان میں اور وہاں لفظ الابحق الاسلام ذکر نہیں ہوا لیکن مراد وہی ہے نیز اس حدیث کو شیخان نے حدیث ابوہریرۃ سے اور بخاری نے حدیث انس سے اور مسلم نے حدیث جابر سے بھی روایت کیا ہے۔

English Translation:[sta_anchor id=”engtrans”] 

Narrated Ibn ‘Umar: Allah’s Apostle said: "I have been ordered (by Allah) to fight against the people until they testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is Allah’s Apostle, and offer the prayers perfectly and give the obligatory charity, so if they perform that, then they save their lives and property from me except for Islamic laws and then their reckoning (accounts) will be done by Allah.”

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں