سلیمان علیہ السلام کا دعویٰ غیب اور ان شاء اللہ سے لاپرواہی

سلیمان علیہ السلام کا دعویٰ غیب اور ان شاء اللہ سے لاپرواہی ( ابو ھریرہ، جلد 2ص 302 روایت:647)
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ ایک دن سلیمان علیہ السلام نے قسم کھائی کہ میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو ایک شہسوار اور مجاھد فی سبیل اللہ کا حمل ٹھہر جائے گا. ان کے ایک صحابی نے کہا ان شاء اللہ کہئے مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا سو کوئی عورت بھی حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے مگر اس کے بھی بچہ پیدا ہوا جس کی ایک جانب گری ہوئی تھی۔ اگر وہ ان شاءاللہ کہہ دیتے تو سب بچے پیدا ہوکر فی سبیل اللہ جہاد کرتے شعیب، ابو الزناد نے ۹۰ عورتوں کی روایت کی ہے اور یہی زیاد صحیح ہے۔
تبصرہ:
سلیمان علیہ السلام کا اپنے صحابی کے سامنے ۷۰ یا ۹۰ عورتوں کے پاس جانے کا کہنا جب کہ آج کا ایک عام مسلمان اپنی خواہش کی تکمیل کا ارادہ کسی پر ظاہر نہیں کرتا چہ جائیکہ ایک اولوالعزم رسول سے یہ بات باعث تعجب ہے۔
صحابی کے توجہ دلانے پر بھی ان شاء اللہ نہ کہنا اور علم غیب کا ایسا دعویٰ کہ70 ہی مجاہد فی سبیل اللہ ہوں گے اور اس ساری داستان کی تصدیق اللہ تعالی نے بذریعہ وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو کرادی ۔‘
الجواب:
یہ روایت صحیح بخاری میں چھ مقامات پر ہے:
(٧٤٦٩،٦٧٢٠،٦٦٣٩،٥٢٤٢،٣٤٢٤،٢٨١٩)
صحیح بخاری کے علاوہ یہ روایت مختلف سندوں کے ساتھ درج ذیل کتابوں میں بھی
موجود ہے:
صحیح مسلم (۱٦٥٤) صحیح ابن حبان (٤٣٢٢ ، ٤٣٢٣دوسرانسخہ:٧ ۴۳۳، ۲۳۳۸) سنن
النسائی (۲۵/۷ح ٦۲ ۳۸) سنن الکبریالیستی (٤٤٫۱۰) مشکل الآثار للطحاوی (۲/
٣٧٧/٢٥) شرح السنة للبغوی (١/1٤٧ح٧٩ وقال :ھذا حدیث متفق على صحته ) حلیة الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی (۲۸۰، ۲۷۹٫۲ وقال ” وهوصحيح ثابت متفق على صحته)
امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے درج ذیل محدثین نے اسے روایت کیا ہے
احمد بن حنبل ( المسند ۲۲۹/۲، ۴۷٢، ٥٠٦) حمیدی ( المسند : ۴ ۱١۷، ١١٧٥)
عبدالرزاق في التفسير( ١/٣٣٧ح١٦٦٨،١٦٦٩)
اس حدیث کو درج ذیل تابعین کرام نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے
1. عبدالرحمن بن ہرمزالاعرج
(صحیح بخار: ٢٨١٩،٣٤٢٤ وصحيح مسلم:۲۵۴١١ وترقیم دار السلام: ٤٢٨٩)
2. طاؤس
(صحیح بخاری:۲۷۲۰، ۵۲٤۲ وصحيح مسلم:١٦٥٤ وترقیم دار السلام: ٤٢٨٦)
معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح بالکل صحیح ہے اور اسے بھی امام
بخاری سے پہلے، ان کے زمانے میں اور بعد والے محدثین نے بھی روایت کیا ہے۔
جولوگ صحیح بخاری کی احادیث پرطعن کرتے ہیں وہ درحقیقت تمام محدثین پر طعن کرتے ہیں.
کیونکہ یہی احادیث دوسرے محدثین کے نزدیک بھی میں ہوتی ہیں۔
تنبیہ 1: سیدنا سلیمان علیہ اسلام نے غیب کا دعوی نہیں کیا تھا بلکہ یہ ان کا اجتھاد وندازہ تھا۔
تنبیہ 2: ان روایات میں سلیمان علیہ السلام کی بیویوں کی تعدادستر، نوے اور سو مذکور ہے اس میں تطبیق یہ ہے کہ ستر آزاد بیویاں تھیں اور باقی لونڈیاں تھیں. (دیکھئے فتح الباری لابن حجر : ٦/٤٦٠تحت٣٤٢٤)
تنبیہ 3: سابقہ شریعتوں میں چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت تھی جب کہ شریعت محمدیہ میں امت مسلمہ کے ہر شخص کو بیک وقت زیادہ سے زیادہ صرف چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے.
تنبیہ4: سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا… الخ کسی حدیث میں یہ بلکل نہیں آیا کہ سلیمان علیہ السلام نے منبر پر لوگوں کے سامنے یی اعلان کیاتھا بلکہ حدیث میں صحابی کا ذکر ہے جس سے مراد فرشتہ ہے. (دیکھئے صحیح بخاری :6720) لہٰذا یہ اعتراض باطل ہے.
دوسرا یہ کہ سلیمان علیہ السلام ان شاء اللہ کہنا بھول گئے تھے نا کہ انھوں نے اسے قصرا ترک کیا. (دیکھئے صحیح بخاری :6720)
( صحیح بخاری پر اعتراضات کاعلمی جائزہ از حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ص ٣٣،٣٣٤)

اس پوسٹ کو آگے نشر کریں